کانگریس پارٹی کے عبوری صدر کا فوری انتخاب کرنے سونیا گاندھی کو مکتوب

   

Ferty9 Clinic

کانگریس وفادار فورم کی تشکیل، کارکنوں کے حوصلے پست، ششی دھر ریڈی ، ہنمنت راؤ اور دیگر قائدین شامل
حیدرآباد۔17 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے سینئر قائدین نے یو پی اے کے صدرنشین سونیا گاندھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے عبوری صدر کا فوری انتخاب کرنے کی درخواست کی تاکہ پارٹی کارکنوں میں اعتماد بحال کیا جاسکے ۔ کانگریس کے وفاداروں کے نام سے تشکیل دیئے گئے گروپ کے قائدین ایم ششی دھر ریڈی ، ایم کودنڈا ریڈی سابق رکن اسمبلی ، وی ہنمنت راؤ سابق صدر پردیش کانگریس ، ایس چندر شیکھر سابق وزیر ، ڈی کملاکر راؤ سابق ایم ایل سی ، اے شام موہن صدرنشین انٹیلکچول سیل اور جی نرنجن سابق صدرنشین اے پی کھادی بورڈ نے مکتوب میں کہا کہ راہول گاندھی کے کانگریس کی صدارت سے استعفی کے بعد کیڈر میں بے چینی پائی جاتی ہے اور اس صورتحال کا بی جے پی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ سونیا گاندھی کو اس صورتحال میں فوری مداخلت کرتے ہوئے تعطل ختم کرنا چاہئے اور پہلے قدم کے طور پر پارٹی کے نئے عبوری صدر کا انتخاب کیا جائے ۔ مکتوب میں کہا گیا سونیا گاندھی کے فیصلہ کے نتیجہ میں تلنگانہ عوام کے خواب کی تکمیل علحدہ ریاست کی صورت میں ہوئی ہے لیکن افسوس ٹی آر ایس نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا

اور کانگریس کو 2014 ء اسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وعدوں کی تکمیل میں ناکامی اور غلط حکمرانی کے سبب عوام ٹی آر ایس حکومت سے ناراض ہیں۔ اس کے باوجود ہم 2018 ء کے انتخابات میں کامیاب نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی عوام تک پہنچنے اور حکومت کی بے قاعدگیوں کو بے نقاب کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ۔ پارٹی نے پیراشوٹ قائدین کی حوصلہ افز ائی کی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں کم تعداد میں ارکان اسمبلی منتخب ہوئے۔ بی جے پی ڈسمبر 2018 ء میں 100 سے زائد اسمبلی نشستوں پر ضمانت بچانے میں ناکام رہی تھی لیکن لوک سبھا انتخابات میں وہ 4 نشستوں پر کامیاب رہیں جبکہ کانگریس کو تین نشستوں پر کامیابی ملی۔ راہول گاندھی کے پارٹی صدارت سے استعفیٰ کے بعد پارٹی کیڈر کے حوصلے پست ہوگئے۔ استعفیٰ پر اٹل رہنے کے فیصلہ سے تنظیمی ڈھانچہ میں خلاء پیدا ہوچکا ہے جس کا سیاسی مخالفین کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ تلنگانہ کے کانگریس قائدین نے کانگریس وفادار فورم تشکیل دیا ہے اور ہمارا احساس ہے کہ موجودہ سنگین صورتحال میں پارٹی کے استحکام اور کارکنوں میں نیا جوش و جذبہ پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔