کانگریس پارٹی کے قومی قائدین میں اختلافات منظر عام پر

   

سلمان خورشید کی کتاب پر غلام نبی آزاد کی تنقید، سابق رکن پارلیمنٹ ایم اے خاں کی آزاد کو تائید
حیدرآباد۔12۔نومبر (سیاست نیوز) اترپردیش اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس پارٹی کے اعلیٰ قائدین کے درمیان پھر ایک مرتبہ اختلافات منظر عام پر آگئے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید کی جانب سے شائع کردہ کتاب پر ایک طرف بی جے پی تنقید کر رہی ہے تو دوسری طرف کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے بھی سلمان خورشید کی کتاب کی مذمت کی ۔ سلمان خورشید نے کتاب میں ہندوتوا طاقتوں کا تقابل دہشت گرد تنظیموں ، ISIS اور بوکو حرام سے کیا ہے۔ کتاب کی رسم اجراء پی چدمبرم اور ڈگ وجئے سنگھ نے کی ہے۔ بی جے پی اور دیر ہندو تنظیموں کی جانب سے ہندوتوا کا دہشت گرد تنظیموں سے تقابل کرنے کی مذمت کی جارہی ہے ۔ غلام نبی آزاد نے صدر کانگریس سونیا گاندھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سلمان خورشید کے ریمارکس کو غلط قرار دیا۔ اس مسئلہ پر سونیا گاندھی ، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی سے ردعمل ظاہر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس طرح کے ریمارکس سے کانگریس پارٹی کو سیاسی اور سماجی طور پر نقصان ہوسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ غلام نبی آزاد ناراض قائدین کے جس گروپ G-23 کی قیادت کرتے ہیں، اسی گروپ سے تعلق رکھنے والے پی چدمبرم نے کتاب کی رسم اجراء انجام دی ۔ غلام نبی آزاد کے مکتوب کے بعد کانگریس کے حلقوں میں بے چینی پیدا ہوچکی ہے ۔ اسی دوران تلنگانہ سے غلام نبی آزاد کو ایک سینئر قائد کی تائید حاصل ہوئی۔ سابق رکن راجیہ سبھا اور کانگریس پارلیمانی پارٹی کے سابق وہپ ایم اے خاں نے آزاد کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر اس طرح کے بیانات مناسب نہیں ہے۔ کسی بھی مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ایم اے خاں نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان کو فوری سلمان خورشید کی کتاب سے متنازعہ ریمارکس کو واپس لینے کی ہدایت دینی چاہئے ۔ ایم اے خاں کا کہنا ہے کہ سلمان خورشید کی کتاب سے کانگریس پارٹی کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس سینئر قائدین کے اختلافات کے کھلے عام اظہار پر سونیا گاندھی کیا ردعمل ظاہر کریں گی۔ ر