کانگریس پسماندہ طبقات میں پھوٹ ڈال کر راج کرنے کی خواہاں

,

   

’’ایک ہیں تو محفوظ ہیں کا نعرہ ‘‘ ۔ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 دفن ہوجانے کا ادعا ۔ جھارکھنڈ میں انتخابی ریلی سے وزیر اعظم مودی کا خطاب

بوکارو: وزیر اعظم نریندر مودی نے الزام لگایا کہ کانگریس درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کو توڑ کر چھوٹی ذاتوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ جھارکھنڈ کے لوگوں کو متحد رہنے کا پیغام دیتے ہوئے، مودی نے ایک بار پھر ’ ایک ہیں تو سیف ہیں ‘کا نعرہ بھی بلند کیا۔جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر یہاں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے دعویٰ کیا کہ ملک کی آزادی کے بعد کانگریس نے معاشرے کے ٹوٹ پھوٹ کا انتخابی فائدہ اٹھایا اور مرکز میں حکومتیں بناتی رہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ درج فہرست ذاتوں اورقبائل کے علاوہ او بی سی کے اتحاد کی سخت مخالف رہی ہے۔ جب تک ایس سی ‘ ایس ٹی اور او بی سی طبقات بکھری رہیں کانگریس نے مرکز میں حکومتیں بنانا جاری رکھا۔ لیکن جیسے جیسے یہ برادریاں آپس میں مل گئیںکانگریس دوبارہ مکمل اکثریت کے ساتھ مرکز میں حکومت نہیں بنا سکی۔مودی نے عوام سے اس صورتحال کو سمجھنے کی درخواست کی اور کہا کہ جب 1990 میں او بی سی برادریوں کو تحفظات ملے تو اس معاشرے کی مختلف ذاتوں کی عددی طاقت ایک ساتھ مل گئی۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے کانگریس لوک سبھا میں بھی 250 سیٹیں نہیں جیت سکی۔مودی نے کہا کہ لہذا کانگریس او بی سی کی اس اجتماعی طاقت کو توڑنا چاہتی ہے اور برادریوں کو سینکڑوں مختلف ذاتوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ بوکارو اور دھنباد سمیت شمالی چھوٹا ناگپور کے عوام کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس خطے میں او بی سی کی 125 سے زائد ذاتیں ہیں اور آج ان سب کو او بی سی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی شناخت اور طاقت ہے۔او بی سی کی دیگر ذاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے جن میں یادو، کرمی مہتو، تیلی، کوری، کشواہا، نونیا، بند، راج بھر اور پرجاپتی کمہار شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ ان کا اتحاد ملک کی ترقی کیلئے بڑی طاقت ہے لیکن کانگریس اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ انہیں الجھا کر رکھنا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ معاشرہ بکھر جائے، معاشرہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ جائے۔ لہذا ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا کہ اگر ہم ایک ہی رہیں گے تو ہم محفوظ رہیں گے۔ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی بحالی کے حوالے سے جموں و کشمیر اسمبلی میں ایک قرارداد کی منظوری پر مودی نے کانگریس اور اس کے اتحادیوں پر بھی حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اور اتحادی جموں و کشمیر میں دفعہ 370 واپس لانا چاہتے ہیں تاکہ ہمارے فوجیوں کو پھر دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کو دفن کیا۔ امبیڈکر کا آئین وہاں سات دہائیوں سے لاگو نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب جموں و کشمیر کے چیف منسٹر نے ہندوستانی دستور کے نام پر حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی طرف سے امبیڈکر کو خراج تحسین ہے۔ریاست میں حکمران جے ایم ایم کی قیادت والے اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے مودی نے کہا آپ مٹھی بھر ریت کی خواہش کر رہے ہیں اور وہ اسے اسمگل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رکروٹمنٹ مافیا اور جے ایم ایم کی قیادت والے اتحاد کے ذریعہ تیار کردہ پیپر لیک مافیا کو جیل بھیج دیا جائے گا اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو نہیں بخشا جائے گا۔مودی نے بی جے پی کے روٹی، مٹی اور بیٹی کے نعرے کا ذکر کیا اور کہا کہ جھارکھنڈ میں این ڈی اے کی حکومت زمین اور بیٹیوں کی حفاظت کیلئے ضروری ہے۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ بنگلہ دیشی دراندازوں کو بھگانے این ڈی اے کو ووٹ دیں۔بی جے پی نے برسر اقتدار جے ایم ایم پر دراندازوں کی مدد کا الزام لگا رہی ہے۔جھارکھنڈ میں ووٹنگ دو مرحلوں میں 13 اور 20 نومبر کو ہونی ہے جبکہ ووٹوں کی گنتی 23 نومبر کو ہوگی۔