چالانات واپس لینے دس دن کی مہلت، دھرنا کرنے ہنمنت راؤ کا اعلان
حیدرآباد۔/19 ستمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے ورکنگ کمیٹی اجلاس کے موقع پر لگائے گئے کٹ آؤٹس کے خلاف گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ ورکنگ کمیٹی اجلاس اور وجئے بھیری جلسہ عام کیلئے کٹ آؤٹس اور بیانرس لگانے پر 5 تا 10 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ کانگریس کارکنوں پر جملہ 2 لاکھ 95 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پردیش کانگریس کے سکریٹری افسر یوسف زئی کے خلاف 10 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کا رویہ جانبدارانہ ہے۔ ریاستی وزراء کی سالگرہ اور برسراقتدار پارٹی کے مختلف پروگراموں کے سلسلہ میں جو ہورڈنگس اور پوسٹرس لگائے جاتے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے کانگریس کارکنوں کو ہراساں کرنے کیلئے جرمانے عائد کئے ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ کیا گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے پاس بجٹ نہیں ہے جس کیلئے عوام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام حیدرآباد کی جانب سے انڈین یونین میں انضمام کی یاد میں پوسٹرس بھی حکومت کو برداشت نہیں ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ اگر اندرون دس دن چالانات سے دستبرداری اختیار نہیں کی گئی تو جی ایچ ایم سی آفس کے روبرو دھرنا منظم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکن چالانات ادا نہیں کریں گے اور وہ جیل جانے کیلئے تیار ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی اجلاس اور جلسہ عام کے بعد بی آر ایس حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے۔ تلنگانہ دینے والی خاتون سونیا گاندھی کے استقبال میں لگائے گئے پوسٹرس پر چالان کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے چالانات سے دستبرداری کا مطالبہ کیا۔