کانگریس کا تساہل، بی جے پی کا فائدہ ۔ راجستھان میں تعطل

,

   

Ferty9 Clinic

l کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ کا انعقاد ، سچن پائلٹ کی عدم شرکت
l آج دوبارہ سی ایل پی میٹنگ ۔ راہول گاندھی ، پرینکا و دیگر کا مصالحانہ رویہ

جئے پور ؍ نئی دہلی ۔ قومی سطح پر بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس ایسا لگتا ہے کہ اپنی سیاسی غلطیوں سے کچھ بھی نہیں سیکھ رہی ہے ۔ چند سال میں گوا ، منی پور ، کرناٹک ، مدھیہ پردیش کانگریس کے ہاتھوں سے چلے گئے حتی کہ گجرات جیسا بی جے پی کا گڑھ جو اپوزیشن کے قبضے میں آسکتا تھا ، ریاستی سطح پر ناکام قیادت نے جیتی بازی ہاردی ۔ مارچ میں مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ زیرقیادت کانگریس حکومت کا تختہ بی جے پی نے جیوترآدتیہ سندھیا کو ملاکر پلٹ دیا اور اب سندھیا کے حامی چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان کی کابینہ کا حصہ ہیں۔ اندرون چار ماہ یہی سیاسی اُلٹ پھیر بی جے پی پچھلے دروازے سے راجستھان میں کرنے کوشاں ہیں اور موجودہ آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ نوجوان ڈپٹی چیف منسٹر سچن پائلٹ شاید سندھیا کی راہ پر چلنے لگے ہیں ۔ پیر کو جئے پور اور نئی دہلی میں راجستھان کی اشوک گہلوٹ حکومت کو بحران سے نکالنے کے لئے زبردست سرگرمیاں جاری رہیں لیکن ساتھ ہی یہ امکان بھی مساوی طورپر برقرار ہے کہ پائلٹ کی تقریباً دو درجن ایم ایل ایز کے ساتھ بغاوت کے نتیجے میں گہلوٹ حکومت گرسکتی ہے ۔ راجستھان کے کانگریس ایم ایل ایز کو آج طویل لیجسلیچر پارٹی میٹنگ کے بعد جئے پور کے قریب ایک ریزارٹ کو منتقل کردیا گیا ۔ میٹنگ میں چیف منسٹر گہلوٹ کو ان ایم ایل ایز کی تائید حاصل ہوئی اور چیف منسٹر نے 200 رکنی ایوان میں 109 ایم ایل ایز کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا۔اجلاس میں ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اُن تمام پارٹی عہدیداروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی پر زور دیا گیا جو حکومت یا پارٹی کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش میں ملوث ہیں۔ قرارداد میں کسی بھی لیڈر کا نام نہیں لیا گیا ۔ تاہم سچن پائلٹ نے فوری جوابی وار کیا کہ عددی طاقت کی آزمائش اسمبلی کے ایوان میں ہوتی ہے چیف منسٹر کے دفتر میں نہیں ۔ پائلٹ کی سی ایل پی میٹنگ میں عدم شرکت اور اُن کے تیور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ گہلوٹ حکومت سے اپنی ناراضگی ختم کرنے والے نہیں ۔ اگرچہ اُنھوں نے فی الحال ایسی اطلاعات کو مسترد کیا ہے کہ بی جے پی میں اُن کی شمولیت کا کوئی ارادہ نہیں ۔ لیکن یہ منطق کے خلاف ہے کہ اگر گہلوٹ حکومت گرتی ہے تو تمام کانگریس ایم ایل ایز پائلٹ کا ساتھ دینا مشکل ہے ۔ ایسی صورت میں بی جے پی کی تائید کے بغیر راجستھان میں متبادل حکومت کی تشکیل ممکن نہیں ۔ اس لئے سیاسی مبصرین بتارہے ہیں کہ راجستھان میں مدھیہ پردیش کی حالیہ سیاسی اُلٹ پھیر کا اعادہ ہوسکتا ہے ۔ دریں اثناء کانگریس قائدین راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی بتایا جاتا ہے کہ پائلٹ سے ربط میں ہیں ۔ پارٹی ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجئے والا کا مصالحانہ اندازہ بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اُنھوں نے کہاہے کہ پائلٹ اور دیگر ایم ایل ایز ہنوز سی ایل پی میٹنگ میں شریک ہوسکتے ہیں۔ منگل کو راجستھان سی ایل پی کی دوبارہ میٹنگ مقرر کی گئی ہے ۔ کانگریس کی مرکزی قیادت کی طرف سے تو فی الحال یہی لگتا ہے کہ وہ پائلٹ گروپ کو اپنی بات پیش کرنے کا ایک اور موقعہ دینا چاہتے ہیں ۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ملک کے طول وعرض میں وقفہ وقفہ سے کانگریس حکومتوں کے ساتھ ایسا کیونکر ہورہا ہے ۔ پارٹی ہائی کمان بحران پیدا ہونے تک خاموش کیوں رہتی ہے ؟ ذرائع کے مطابق پائلٹ تب سے ناراض ہیں جب ڈسمبر 2018 ء کے اسمبلی انتخابات کے بعد اُنھیں چیف منسٹر راجستھان کے عہدے سے محروم رکھا گیا ۔ سندھیا اور پائلٹ میں فرق اتنا ہے کہ تب پائلٹ نائب وزیراعلیٰ بننے تیار ہوگئے جبکہ سندھیا نے خود کو کمل ناتھ حکومت سے دور ہی رکھا تھا ۔ تاہم سندھیا کی بغاوت کے بعد لگتا ہے کہ پائلٹ کو کچھ حوصلہ ملا اور اُنھوں نے بھی شاید کانگریس قیادت سے بغاوت کی ٹھان لی ہے ۔ فی الحال یعنی کم از کم پیر کی حد تک راجستھان کی حکومت کا تعطل برقرار ہے ۔ اب دیکھنا ہے منگل کو سی ایل پی میٹنگ کے دوسرے روز کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے اور اُس کے بعد پائلٹ کیا سیاسی کروٹ لیتے ہیں ۔