کانگریس کا خواتین ریزرویشن معاملہ پر وزیراعظم پر یو ٹرن لینے کا الزام

   

نئی دہلی، 25 مارچ (یو این آئی) کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے چہارشنبہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر ’ناری شکتی وندن ادھینیم 2023‘ کے نفاذ کے معاملے میں ’اچانک یو ٹرن‘لینے کا الزام لگایا اور اسے اہم قومی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے ۔ رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ستمبر 2023 میں جس نئے پارلیمنٹ ہاؤس کا افتتاح ہوا تھا، وہیں اس تاریخی قانون کو منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کے ذریعے آئین میں ترمیم کر کے لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مختص کرنے کا التزام کیا گیا تھا۔ اس قانون میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے مخصوص نشستوں کے اندر بھی ایک تہائی ریزرویشن فراہم کرنے کا التزام شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان تحفظات کو لاگو کرنے کا کام واضح طور پر نئی حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) اور مردم شماری کے عمل کی تکمیل سے مشروط کیا گیا تھا۔ رمیش نے کہا کہ یہ دونوں ریزرویشن تبھی نافذ ہونے تھے جب حد بندی اور مردم شماری کا کام مکمل ہو جاتا۔ کانگریس لیڈر نے یاد دلایا کہ بل پر پارلیمانی بحث کے دوران کانگریس نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے ہی اسے فوری نافذ کرنے کا زوردار مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تب مودی حکومت نے یہ دلیل دی تھی کہ حد بندی اور مردم شماری کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے ۔ وزیر اعظم پر اپنا موقف بدلنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ’یو ٹرن استاد‘ نے 30 ماہ بعد اچانک اپنا ذہن بدل لیا ہے اور وہ اب حدبندی اور مردم شماری کے بغیر ہی ریزرویشن لاگو کرنا چاہتے ہیں۔” انہوں نے الزام لگایا کہ اس اقدام کا وقت سیاسی طور پر محرک ہے۔
کانگریس لیڈر نے مزید کہا، “وزیر اعظم توجہ بھٹکانے والے بڑے ہتھیار استعمال کرنے میں بے مثال ہیں۔ اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور ملک میں ایل پی جی و توانائی کے بحران سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے بے تاب ہو کر انہوں نے یہ نیا قدم اٹھایا ہے ۔” انہوں نے کہا کہ حکومت اگلے پندرہ دنوں میں پارلیمنٹ کا دو روزہ خصوصی اجلاس بلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ اس قانون میں ترمیم کر کے ریزرویشن کے التزامات کو نافذ کیا جا سکے ۔