نظام آباد : ایم ایل سی وی جی گوڑ، ریڈ کو چیرمین ایس اے علیم نے پریس کلب نظام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ مدھو گوڑ یاشکی کی جانب سے قانون ساز کونسل کی رکن کے کویتا پر کی گئی تنقید پر زبردست احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کے کویتا بحیثیت رکن پارلیمنٹ ہلدی بورڈ کے قیام کیلئے مرکزی حکومت سے مسلسل نمائندگی کرتی رہیں لیکن ہلدی بورڈ کے قیام عمل میں نہیں لایا گیا اس کے باوجودبھی مختلف ریاستوں کے چیف منسٹروں سے ہلدی بورڈ کے قیام کیلئے نمائندگی بھی کی تھی ۔ مسٹر ایس اے علیم ، وی جی گوڑ نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی ساکھ کو برقرار رکھنے کیلئے کے کویتا پر الزامات عائد کرنا سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کانگریس پارٹی کا وجود ختم ہوچکا ہے اسی طرح تلنگانہ میں بھی کانگریس پارٹی کا وجود خطرہ میںہے اور جس دن سے ریونت ریڈی نے پردیش کانگریس کے صدر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا ہے اس دن سے اور بھی کانگریس پارٹی کیلئے خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ کے کویتا اپنے میعاد کے دوران کئی ترقیاتی کاموں کو انجام دیتے ہوئے اپنی ایک منفرد شناخت بنائی ہے لیکن کانگریس پارٹی اپنی پارٹی کو زندہ رکھنے کیلئے ٹی آرایس پر تنقید کررہی ہے۔ مدھو گوڑ یاشکی 10سال تک نظام آباد کے رکن پارلیمنٹ رہے لیکن ایک بھی ترقیاتی کاموں کو انجام نہیں دیااور کانگریس کے دور میں ہی این ایس ایف کو بند کیا گیا تھا کانگریس پارٹی کے قائدین کے کویتا پر تنقید کے بجائے تعمیری کام انجام دیں تو بہتر ہوگا۔