کانگریس کو شمالی تلنگانہ میں بی جے پی اور جنوبی تلنگانہ میں بی آر ایس کا چیلنج

   

ریاست میں بلدیاتی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں ، سیاسی صف بندیاں واضح ، مسلم ووٹوں کی اہمیت
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 9 ۔ فروری : ریاست تلنگانہ میں میونسپل انتخابات کی جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے ۔ اگرچہ کہ بظاہر تین بڑی جماعتیں کانگریس ۔ بی آر ایس اور بی جے پی انتخابی میدان میں زور آزمائی کررہی ہیں لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ شمالی اور جنوبی تلنگانہ میں سیاسی منظر نامہ واضح طور پر مختلف دکھائی دے رہا ہے ۔ حکمران کانگریس بیشتر بلدیات اور کارپوریشنس پر قبضہ جمانے کا نشانہ مختص کرتے ہوئے انتخابی مہم چلا رہی ہے ۔ جس کو شمالی تلنگانہ میں بی جے پی جب کہ جنوبی تلنگانہ میں بی آر ایس کی جانب سے سخت چیلنج درپیش ہے ۔ شمالی تلنگانہ میں کئی مقامات پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان براہ راست مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ چار مشترکہ اضلاع میں موجود 6 لوک سبھا نشستوں میں سے 3 کانگریس اور 3 بی جے پی کے پاس ہیں ۔ بی جے پی کے 8 میں سے 7 ارکان اسمبلی کا تعلق بھی انہیں شمالی اضلاع سے ہے ۔ جس سے پارٹی کو مقامی سطح پر مضبوطی حاصل ہے ۔ بی جے پی نے حاص طور پر نظام آباد ، کریم نگر ، راما گنڈم اور منچریال جیسی کلیدی کارپوریشنس پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ جہاں 42 بلدیات کے 1235 وارڈس ہیں ۔ مرکزی مملکتی وزیر بنڈی سنجے کریم نگر جب کہ نظام آباد میں رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کی قیادت میں بی جے پی جارحانہ انتخابی مہم چلا رہی ہے ۔ کانگریس نے بی جے پی کے اس جارحانہ رویے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے نظام آباد اور کریم نگر جیسے حساس علاقوں میں انچارج وزراء ، ارکان اسمبلی ، ارکان قانون ساز کونسل اور پارٹی کے سینئیر قائدین پر مشتمل مکمل کیڈر تعینات کیا ہے ۔ کانگریس پارٹی کی خاص توجہ سماج کے تمام طبقات بالخصوص اقلیتوں اور خواتین ووٹرس پر مرکوز ہے ۔ کانگریس قائدین کا ماننا ہے کہ شمالی تلنگانہ میں بی جے پی اور بی آر ایس کی موجودگی کے باعث سہ رخی مقابلے میں انہیں فائدہ پہونچ سکتا ہے ۔ بعض کارپوریشنس میں اگر چند نشستوں کی کمی رہ جاتی ہے تو مجلس اور آزاد امیدواروں کی حمایت سے مئیر کے عہدے پر قبضہ کرنے کی بھی تیاری کی جارہی ہے ۔ تاہم چیف منسٹر ریونت ریڈی نے پیر کے دن انچارج وزراء اور اہم قائدین سے اجلاس طلب کرتے ہوئے انہیں واضح ہدایت دی کہ کسی بھی صورت میں اتحادی اور حمایت پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ واضح اکثریت حاصل کی جائے ۔ دوسری جانب جنوبی تلنگانہ میں اصل اپوزیشن بی آر ایس حکمران کانگریس کو زبردست ٹکر دیتی دکھائی دے رہی ہے ۔ بی آر ایس کے سربراہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ فارم ہاوز تک محدود ہے مگر وہ انتخابی صورتحال پر پوری توجہ مرکوز کرچکے ہیں ۔ جن مقامات پر پارٹی کا موقف کمزور ہے وہاں پارٹی قائدین سے ٹیلی فون پر رابطہ پیدا کرتے ہوئے انہیں سرگرم کررہے ہیں اور پولنگ کے دن چوکس رہنے کی پارٹی قائدین کو ہدایتیں دے رہے ہیں ۔ دوسری جانب بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر اور ہریش راؤ پارٹی امیدواروں کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔ حکومت کی ناکامیوں ، بدعنوانیوں کو بے نقاب کررہے ہیں اور وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوجانے کا حکومت پر الزام عائد کررہے ہیں ۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بلدی انتخابات میں شمالی تلنگانہ بی جے پی بمقابلہ کانگریس کا میدان بن چکا ہے ۔ جب کہ جنوبی تلنگانہ میں کانگریس اور بی آر ایس آمنے سامنے ہیں ۔۔ 2