کانگریس کو نقصان پہنچانے گودی میڈیا سرگرم

   

تلنگانہ میں مسلمانوں کے خلاف ٹی وی چینل ری پبلک کی زہر افشانی
کانگریس کے انتخابی منشور کے حوالے سے گمراہ کن دعوے، اینکر ارنب گو سوامی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کانگریس کا اعلان
حیدرآباد۔/5 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس کی اقتدار میں واپسی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے گودی میڈیا نے مسلمانوں کے نام پر نفرت کی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ کرناٹک میں مسلمانوں کی بھرپور تائید سے کانگریس برسراقتدار آئی اور تلنگانہ میں مسلمان اس مرتبہ کانگریس کی تائید کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں۔ کرناٹک کے تجربہ کو تلنگانہ میں ناکام بنانے کیلئے بی جے پی نے گودی میڈیا کو متحرک کردیا ہے تاکہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک بھر میں نفرت کا ماحول اور ہندو مسلم سیاست کو ہوا دی جائے۔ کانگریس پارٹی نے اسمبلی چناؤ کیلئے تاحال انتخابی منشور جاری نہیں کیا لیکن ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کا زہر اُگلنے والے اینکر ارنب گوسوامی نے ری پبلک چینل پر گمراہ کن پروپگنڈہ کیا ہے۔ چینل پر تلنگانہ میں مسلمانوں کے ساتھ کانگریس کی ہمدردی اور’’مسلم فرسٹ ‘‘ کے موضوع پر مباحثہ منعقد کیا گیا۔ واضح رہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے مسائل کی نشاندہی کیلئے میناریٹیز ڈیکلریشن کمیٹی تشکیل دی ہے جس نے ابھی تک اپنی رپورٹ پارٹی کو پیش نہیں کی ہے لیکن تلنگانہ میں کانگریس کے انتخابی منشور کا نام لے کر ارنب گو سوامی نے انتہائی اشتعال انگیز ریمارکس کئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس پارٹی تلنگانہ میں مسلمانوں کیلئے علحدہ ہاسپٹلس قائم کرے گی جس میں دیگر مذاہب کے افراد کا علاج نہیں ہوگا بھلے ہی وہ ایمرجنسی کی حالت میں کیوں نہ پہنچیں۔ اینکر نے مزید زہر افشانی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں مساجد اور چرچس کو برقی سربراہی مفت عمل میں آئے گی جبکہ گردواروں اور منادر کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوگی۔ روزگار کی فراہمی میں مسلمانوں کو دیگر مذاہب کے امیدواروں پر ترجیح دینے کا دعویٰ کیا گیا۔ ارنب گو سوامی نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کیلئے مسلمانوں کو 20 لاکھ روپئے قرض فراہم کی جائے گا اور اردو کو ریاست میں دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل ہوگا۔ انتخابی منشور کے نام پر نیوز اینکر نے کانگریس پارٹی اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کیلئے ’ مسلم فرسٹ‘ ہوچکے ہیں جبکہ دیگر مذاہب کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ ارنب گو سوامی قومی سطح کے صحافی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ اس بات سے واقف نہیں کہ تلنگانہ میں تمام طبقات کیلئے بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں تعلیم پر 20 لاکھ روپئے امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ ارنب گو سوامی نے 20 لاکھ روپئے قرض دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دراصل معلومات میں کمی کا نتیجہ ہے اور اس چینل کا مقصد تلنگانہ میں ہندو اور مسلم میں نفرت پیدا کرتے ہوئے بی جے پی کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اسی طرح اینکر اس بات سے بھی لاعلم ہیں کہ متحدہ آندھرا پردیش میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا جو ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ اور آندھرا پردیش دونوں میں برقرار ہے۔ اسی دوران پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری سی ایچ کرن کمار نے چینل کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ کانگریس پارٹی نے ابھی تک انتخابی منشور جاری نہیں کیا ہے اور کانگریس پارٹی گمراہ کن پروپگنڈہ میں ملوث افراد کے خلاف کریمنل کیس درج کرے گی۔