معلق اسمبلی کی صورت میں کے سی آر ‘بی جے پی کے ساتھ جائیں گے
حیدرآباد 25 نومبر (سیاست نیوز) سی پی ایم قومی جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ تلنگانہ میں جن اسمبلی حلقوں پر سی پی ایم مقابلہ نہیں کررہی ہے، وہاں کانگریس کی تائید کرے گی۔ اگر اتفاق سے معلق اسمبلی وجود میں آتی ہے تو سی پی ایم حکومت تشکیل دینے کانگریس کی تائید کرے گی۔ سیتارام یچوری نے کہا کہ سی پی ایم انڈیا اتحاد کا حصہ ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس سے اتحاد کرنے مذاکرات کی گئی تاہم چند نشستوں پر دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے سی پی آئی چند حلقوں پر مقابلہ کررہی ہے ۔ جن اسمبلی حلقوں پر سی پی ایم مقابلہ نہیں کررہی ہے۔ وہاں کانگریس کی مکمل تائید و حمایت کی جائے گی۔ پارٹی کیڈر کو اس کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ سی پی ایم کے قومی جنرل سکریٹری نے کہا کہ تلنگانہ میں معلق اسمبلی وجود میں آتی ہے تو بی آر ایس یقیناً بی جے پی سے اتحاد کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے کی کوشش کرے گی۔ سیتارام یچوری نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر مخالف بی جے پی طاقتوں کو متحد کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم وہ تنہا مقابلہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا سی پی ایم ملک بھر میں بی جے پی کو شکست دینے کا ایجنڈہ تیار کرتے ہوئے کام کررہی ہے۔ پانچ ریاستوں میں جہاں اسمبلی انتخابات منعقد ہورہے ہیں وہاں بی جے پی مشکلات سے دوچار ہورہی ہے۔ سیتارام یچوری نے کہا کہ سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن، ای ڈی، سی بی آئی وغیرہ بی جے پی کی کٹھ پتلی بن کر کام کررہے ہیں۔ن