کانگریس کی انتخابی تیاریوں میں تیزی ‘ امیدواروں کے انتخاب پر توجہ

   

تمام 119 امیدواروں کے بیک وقت اعلان پر بھی غور ۔ پہلی فہرست کی 10 ستمبر تک اجرائی کا امکان

حیدرآباد 26 اگسٹ ( سیاست نیوز ) تلنگانہ میں برسر اقتدار بی آر ایس کی جانب سے 115 اسمبلی امیدواروں کی فہرست کی اجرائی کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں تیزی پیدا ہوگئی ہے اور دوسری جماعتیں بھی اپنے اپنے امیدواروں کے انتخاب کا عمل تیز کرچکی ہیں۔ آئندہ دو ہفتوں میں امیدواروں کے اعلان کا آغاز ہوسکتا ہے ۔ ریاست مںے بی آر ایس کے خلاف آر پار کی لڑائی کا اعلان کرنے والی کانگریس نے بھی اپنی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کردی ہے ۔ سیاسی حلقوں و عوام میں کانگریس کے امیدواروں کی فہرست کا انتظار کیا جا رہا ہے ۔ کانگریس بھی اس تعلق سے اپنی تیاریاں درپردہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ کانگریس نے اسمبلی ٹکٹ کے دعویداروں سے درخواستیں وصول کرنے کا عمل مکمل کرلیا ہے ۔ 25 اگسٹ تک پارٹی نے خواہشمند افراد سے درخواستیں حاصل کی ہیں۔ درخواستوں کی وصولی کا عمل کل ہی مکمل ہوا ہے اور آج صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے تلنگانہ کا دورہ کیا اور انہوں نے ایک جلسہ عام سے خطاب کیا ۔ پارٹی کے سینئر اور ذمہ دار قائدین اس جلسہ اور پروگرام میں مصروف رہے ہیں اور اب ٹکٹ کے خواہشمند افراد کے تعلق سے سروے کا آغاز کیا جائیگا ۔ کانگریس قائدین کا کہنا ہے کہ امیدوار کی کامیابی کے امکانات کو ضرور پیش نظر رکھے جائیگا اور حلقہ میں امیدوار کے تعلق سے عوام اور پارٹی کارکنوںکی رائے کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹکٹس دینے کا فیصلہ کیا جائیگا ۔ اس تعلق سے پارٹی نے واضح حکمت عملی تیار کی ہے ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فہرست کی تیاری میں قدرے تاخیر کی جائے گی تاکہ بی آر ایس میں فہرست کی اجرائی کے بعد جو ناراض سرگرمیاںشروع ہوئی ہیں انہیں مزید ہوا دی جاسکے ۔ کانگریس اس بات کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ اس کی فہرست کی اجرائی کے بعد ناراض سرگرمیاں ہونے نہ پائیں جس سے پارٹی کے انتخابی امکانات متاثر ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ بی آر ایس نے 115 حلقوں سے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے ایسے میں کانگریس پارٹی بھی اپنے مکمل 119 امیدواروں کی فہرست جاری کرسکتی ہے ۔ اس پہلو پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ اگر کچھ وجوہات کی بناء پر تمام 119 امیدواروں کی فہرست جاری کرنے میں کچھ مسئلہ درپیش ہو تو پھر پہلی فہرست جاری کی جاسکتی ہے جس میں 119 حلقوں کے نصف امیدواروں کا نام شامل ہوسکتا ہے ۔ جن خواہشمندوں نے ٹکٹ کیلئے درخواست داخل کی ہے ان پر بھی یہ واضح کردیا گیا ہے کہ ایک سے زائدا میدوار ہونے کی صورت میں سروے کروایا جائیگا اور سروے میں عوامی مقبولیت ‘ کارکنوں کی حمایت اور کامیابی کے امکانات کے پیش نظر فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ 10 ستمبر تک پہلی فہرست کی اجرائی کا امکان بھی ہے ۔