کانگریس کی انتخابی تیاریوں میں شدت، 60 امیدواروں کے ناموں کو قطعیت

   

اسمبلی چناؤ ’’کرو یا مرو‘‘ کی صورتحال، ہائی کمان سے ملاقات کے بعد قائدین میں جوش
حیدرآباد ۔28۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی کے مجوزہ انتخابات کانگریس کے لئے آخری لڑائی کی طرح ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے کل تلنگانہ کے سینئر قائدین سے انتخابی حکمت عملی پر اجلاس منعقد کیا جس میں واضح کیا گیا کہ تلنگانہ میں اقتدار میں واپسی پارٹی کے لئے ’’کرو یا مرو‘‘ کی صورتحال کی طرح ہے۔ 2014 ء میں علحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے بی آر ایس نے دو انتخابات میں مسلسل کامیابی حاصل کرتے ہوئے اقتدار کے دس سال مکمل کئے ہیں۔ کانگریس کی جانب سے پارلیمنٹ میں علحدہ تلنگانہ بل کی منظوری کے باوجود تلنگانہ عوام نے کانگریس کی تائید نہیں کی اور جدوجہد کرنے والے کے سی آر کو اقتدار حوالے کیا۔ اب جبکہ کانگریس پارٹی اقتدار میں واپسی کے بارے میں پرامید ہے، اس نے تمام سابق قائدین کی گھر واپسی کی مساعی شروع کردی ہے۔ 2014 ء میں شکست کے بعد کئی سینئر قائدین نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔ 119 رکنی تلنگانہ اسمبلی میں 2014 اور پھر 2018 ء میں کے سی آر کو اکثریت حاصل ہوئی اور کانگریس پارٹی مسلمہ اپوزیشن کا موقف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ کانگریس کے تقریباً 13 منتخب ارکان اسمبلی نے بی آر ایس میں انحراف کیا ۔ 2014 ء اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو 21 اور 2018 ء میں 19 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی لیکن دونوں مواقع پر بی آر ایس نے بڑے پیمانہ پر انحراف کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کانگریس کو کمزور کیا۔ اب جبکہ کرناٹک میں کامیابی کے بعد تلنگانہ میں کانگریس کے حوصلے بلند ہیں، پارٹی ہائی کمان نے امیدواروں کے انتخاب کا عمل شروع کردیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر اسمبلی حلقہ میں مضبوط اور مقبول قائدین کی فہرست تیار کی جارہی ہے اور عوام میں پسندیدہ قائد کو پارٹی امیدوار بنایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان نے انتخابی حکمت عملی کے ماہر سنیل کنگولو کی رپورٹ کی بنیاد پر امیدواروں کے انتخاب کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جولائی میں امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی جائے گی۔ یہ وہ اسمبلی حلقہ جات ہیں جہاں امیدواروں کے مسئلہ پر کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ سینئر قائدین کے اسمبلی حلقہ جات کی فہرست توقع ہے کہ جولائی میں جاری کرتے ہوئے کانگریس پارٹی انتخابی ماحول گرم کردے گی۔ تلنگانہ میں پارٹی کے اسٹار کیمپینر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے بتایا کہ جولائی میں امیدواروں کی پہلی فہرست کی اجرائی کے لئے ایکشن پلان تیار کیا جارہا ہے ۔ پہلی فہرست کی اجرائی سے کیڈر کے حوصلے بلند ہوں گے۔ اسی دوران رکن کونسل جیون ریڈی نے کہا کہ 60 اسمبلی حلقہ جات کے امیدواروںکا انتخاب ہوچکا ہے اور بہت جلد ناموں کا اعلان کردیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے نے جنرل نشستوں پر ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی قائدین کو امیدوار بنانے سے اتفاق کیا ہے ۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ وہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی راج گوپال ریڈی کی گھر واپسی پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ راج گوپال ریڈی کے فیصلے سے واقف نہیں ہے۔ راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے سے ملاقات کے بعد تلنگانہ قائدین کافی پرجوش نظر آئے۔ ہائی کمان نے قائدین کو اتحاد کا درس دیا اور ڈسپلن شکنی کی صورت میں کارروائی کا انتباہ دیا۔ر