گاندھی بھون کے باہر کشیدگی، مرکز اور ریاستی حکومتوں کے خلاف احتجاج، پولیس کے ساتھ کارکنوں کی دھکم پیل، ٹریفک میں خلل
حیدرآباد۔ 8 نومبر (سیاست نیوز) مرکز کی بی جے پی اور ریاست کی ٹی آر ایس حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف کانگریس پارٹی نے آج گاندھی بھون سے راج بھون تک ریالی منظم کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے ریالی کی اجازت سے انکار کردیا اور گاندھی بھون کے اطراف سخت ترین سکیوریٹی کے ذریعہ ناکہ بندی کردی گئی تاکہ کانگریس کارکن راج بھون کی طرف نہ جاسکیں۔ صبح سے گاندھی بھون میں کانگریس قائدین اور کارکنوں کی آمد کا آغاز ہوگیا اور وقفہ وقفہ سے جتھوں کی شکل میں کارکن گاندھی بھون سے نکل کر راج بھون کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔ تاہم پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ پارٹی کے سینئر قائدین آر سی کنتیا، بھٹی وکرامارکا، بوس راجو جانا ریڈی، انجن کمار یادو، انیل کمار یادو، ایم ششی دھر ریڈی، این کودنڈا ریڈی، راملو نائک، عظمت اللہ حسینی، فیروز خان اور دیگر قائدین کو بیگم بازار پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ کانگریس قائدین اور پولیس کے درمیان بحث و تکرار ہوئی کیوں کہ کانگریس قائدین گورنر ای سوندرا راجن سے ملاقات کے لیے وقت مقرر ہونے کا دعوی کررہے تھے۔ پولیس نے کئی مواقع پر ٹریفک کو بحال کرنے کے لیے ہلکی طاقت کا استعمال کیا اور کانگریس کارکنوں کو گاندھی بھون تک سمیٹ دیا۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی۔ صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی انجن کمار یادو نے کارکنوں کی قیادت کی اور پولیس کا حصار توڑکر آگے بڑھنے لگے۔ پولیس احتجاجیوں کو حراست میں لینے میں کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ مہیلا کانگریس کی کئی قائدین کو لیڈیز پولیس کی مدد سے حراست میں لیا گیا۔ کانگریس کے احتجاج کے نتیجہ میں معظم جاہی مارکٹ تا لکڑی کا پل ٹریفک کئی گھنٹوں تک درہم برہم رہی۔ پولیس کو ٹریفک کی بحالی اور دوسری طرف کانگریس کارکنوں پر قابو پانے میں کافی دشواریاں پیش آرہی تھیں۔ بعد میں بیگم بازار پولیس اسٹیشن سے کانگریس کے سینئر قائدین کے ایک وفد کو راج بھون جانے کی اجازت دی گئی جہاں گورنر سوندرا راجن کو یادداشت پیش کی گئی۔ شام تک پولیس نے گاندھی بھون کے پاس چوکسی کو برقرار رکھا تھا۔ واضح رہے کہ مرکز اور ریاست کی پالیسیوں کے خلاف آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی اپیل پر ملک بھر میں احتجاج منظم کیا گیا۔ تلنگانہ کے تمام ضلع کلکٹریٹس کے روبرو دھرنا منظم کرتے ہوئے ضلع کلکٹرس کو یادداشت پیش کی گئی۔ اضلاع میں سابق وزراء اور ارکان اسمبلی نے دھرنے کی قیادت کی۔ اسی دوران انجن کمار یادو نے پولیس کے رویہ کی مذمت کی اور کہا کہ جمہوری انداز میں پرامن طور پر راج بھون تک ریالی کی اجازت طلب کی گئی تھی لیکن پولیس نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اشارے پر پولیس نے احتجاج کی اجازت نہیں دی۔ گاندھی بھون کے روبرو پولیس اور کانگریس کارکنوں کے درمیان کئی مواقع پر دھکم پیل اور بحث تکرار ہوئی۔ انجن کمار یادو نے کہا کہ اے آئی سی سی کی ہدایت کے مطابق 16 نومبر کو حیدرآباد میں ریاست گیر سطح کا احتجاج منظم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام دونوں حکومتوں سے عاجز آچکے ہیں اور کانگریس اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کرے گی۔