ممبئی: مہاراشٹر اکے مساجوگ گاؤں کے سرپنچ سنتوش دیشمکھ کے قتل نے ریاست میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے ۔ اس ہولناک واقعے کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے سدبھاؤنا پدیاترا کا آغاز کیا جس کا مقصد نفرت کی سیاست کا خاتمہ اور سماجی یکجہتی کا فروغ ہے ۔ یاترا کا آغاز مہاراشٹرا پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا جو اس موقع پر دیشمکھ کے اہلِ خانہ سے بھی ملے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ یہ سوال ہم سب کیلئے ہے کہ کیا ہم سنتوش دیشمکھ کی قربانی سے سبق سیکھیں گے یا نہیں؟ وہ ایک مخصوص نظریے کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے شہید ہوئے اور اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس رجحان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آہنگی ہمارے ملک کے آئینی و تہذیبی ورثے کا حصہ ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہوگی۔ دیشمکھ خاندان نے جس صبر اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ ستائش ہے ۔ مجرموں کو مذہب یا ذات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے گھناؤنے عمل کی بنا پر سزا ملنی چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس یاترا کے ذریعے عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ نفرت، خوف اور فرقہ وارانہ سیاست کو رد کر کے سماجی یکجہتی کو مضبوط کیا جائے ۔
سنتوش دیشمکھ کے قتل کے مجرموں کو سخت ترین سزا دی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو۔