’کانگریس کی غلط حکمت عملی اور پالیسیوں نے سارے ملک کو تباہ کردیا‘

,

   

Ferty9 Clinic

کشمیر کی حالت بگڑ رہی تھی اور دہلی کی حکومت مخمصہ میں تھی ، وقت بدل رہا ہے ملک میں تبدیلی آرہی ہے ، ہریانہ میں مودی کا خطاب
ایلن آباد ( ہریانہ) ۔19 اکتوبر ۔( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی نے ہریانہ اسمبلی انتخابات کیلئے جاری انتخابی مہم کے آخری دن دستور کی دفعہ 370 ، کرتارپور راہداری جیسے مختلف مسائل پر ہفتہ کے روز اپوزیشن کانگریس کیخلاف اپنے حملوں میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کی غلط پالیسیوں اور حکمت عملی نے ملک کو تباہ کر رکھا ہے ۔ مودی نے ریلی سے خطاب کے دوران دستوری دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کا مسئلہ اُٹھاتے ہوئے کہا کہ بی آر امبیڈکر نے جس کو عارضی دفعہ کہا تھا وہ 70 برس تک جاری رہی لیکن کانگریس نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کیا ۔ انھوں نے کہاکہ کشمیر کی صورتحال بگڑتی رہی اور دہلی کی حکومت مسلسل اُلجھن و بے حسی کی شکار رہی تھی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ’’کانگریس کی غلط حکمت عملی اور پالیسیوں نے ملک کو تباہ کردیا لیکن اب ہندوستان اور کشمیر کے عوام پالیسیوں کو ترتیب دے رہے ہیں ‘‘ ۔ وزیراعظم مودی نے کہاکہ ’’اب وقت بدل رہا ہے ، ملک بدل رہا ہے ‘‘ ۔ جموں و کشمیر سے متعلق دفعہ 370 کی تنسیخ کو حق بجانب اور منصفانہ قرار دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ ’’کیا محض دہلی میں اقتدار کی خاطر کشمیر کو تباہ ہونے کے لئے چھوڑ دیا جائے ‘‘۔ آیا کشمیر زیادہ اہم ہونا چائے یا وزیراعظم کا عہدہ اہم ہونا چاہئے ؟ ۔ ہر ہندوستانی کا جواب یہی ہوگا کہ کئی وزیراعظم آئیں گے اور جائیں گے لیکن ہندوستان کو رہنا ہے ترقی یافتہ اور خوشحال ہونا ہے ۔ انھوں نے جموں و کشمیر کے مسئلہ پر بھی کانگریس کو حکومت کی مخالفت کرنے کیلئے مورد الزام ٹھہرایا ۔ ہندوستانی پنجاب کے گرداسپور میں واقع ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان میں واقع تاریخی گردوارہ دربار صاحب کو مربوط کرنے والی کرتارپور راہداری کے بارے میں مودی نے کہاکہ یہ تقریباً تکمیل کو پہونچ چکا ہے ۔ مرکزی حکومت بھی سکھ مت کے بانی کے 550 ویں یوم پیدائش تقاریب کو بڑے پیمانے پر منانے کے انتظامات کررہی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ’’تقسیم کے موقع پر کرتارپور گردوارہ کو ہندوستانی علاقہ میں لانے میں ناکامی ایک بڑی غلطی تھی ‘‘ ۔ انھوں نے کہا کہ ’’لیکن کانگریس اور ان کے کلچر سے وابستہ دیگر جماعتوں نے ہندوستانیوں کے عقائد ، رسم و رواج اور روایات کا کبھی کوئی احترام نہیں کیا‘‘۔