کانگریس کی مقبولیت سے بوکھلاکر ٹی آر ایس اور بی جے پی میں معاہدہ

   

بنڈی سنجے بی جے پی کا ڈمی کردار، رکن اسمبلی جگا ریڈی کا الزام
حیدرآباد۔/7 ستمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن اسمبلی اور پردیش کانگریس کے ورکنگ پریسیڈنٹ جگا ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کی بڑھتی مقبولیت اور عوام کی تائید سے بوکھلا کر ٹی آر ایس اور بی جے پی نے خفیہ مفاہمت کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی تلنگانہ میں پیشقدمی روکنے کیلئے دونوں پارٹیوں نے معاہدہ کرلیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے تیار کردہ ڈرامہ پر بنڈی سنجے عمل کررہے ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جگا ریڈی نے کہا کہ اقتدار بچانے کیلئے کے سی آر نے بی جے پی سے مفاہمت کرلی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی قائدین ڈمی ہوچکے ہیں اور وہ کوئی فیصلہ کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے تقریباً تمام اضلاع بارش کے سبب متاثر ہیں لیکن چیف منسٹر سیاسی ایجنڈہ کے تحت نئی دہلی میں قیام کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے خلاف راجہ سنگھ کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے جگا ریڈی نے کہا کہ راجہ سنگھ کب کیا کہیں گے وہ خود نہیں جانتے۔ راجہ سنگھ کا خود بی جے پی میں کوئی مقام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی میں اختلاف رائے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تمام مسائل کی باہمی بات چیت کے ذریعہ یکسوئی کرلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرجا سنگرام یاترا کے نام پر بی جے پی صدر کی یاترا کا کوئی اثر نہیں ہے کیونکہ وہ خود پارٹی میں ڈمی کردار بن چکے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی صدر کو چیلنج کیا کہ وہ ہر شخص کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع کرنے سے متعلق وعدہ کو پورا کرنے کیلئے مرکز سے مطالبہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی مقبولیت سے پریشان ہوکر چیف منسٹر نئی دہلی پہنچے اور حضورآباد ضمنی چناؤ کو ملتوی کرایا۔R