نئی دہلی۔ 30 مارچ (یو این آئی) حکمراں بی جے پی کی اتحادی جماعت شیوسینا نے کانگریس کی کمزور پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں نکسل ازم بڑھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت اسے ختم کرنے کیلئے ٹھوس کوششیں کر رہی ہے ۔شیوسینا کے شری کانت ایکناتھ شندے نے “بائیں بازو کی شدت پسندی سے ملک کو آزاد کرنے کی کوششیں” کے موضوع پر رول 193 کے تحت بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک سال پہلے 31مارچ 2026 سے پہلے نکسل ازم ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور یہ بحث اسی کی جھلک ہے ۔ میں اپوزیشن کے ناقدین سے کہنا چاہتا ہوں کہ ان کیلئے یہ کرارا جواب ہے جو کہتے تھے کہ نکسل ازم ختم نہیں ہو سکتا۔ وزیر داخلہ نے ملک کو نکسل ازم سے آزاد کرنے کی کوشش کی۔ اگر اپوزیشن کی حکومت نے کوشش کی ہوتی تو اسے پہلے ہی ختم کیا جا سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے آدیواسیوں اور پسماندہ طبقات کیلئے کچھ نہیں کیا، جس کے باعث وہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ۔ ہم نے آدیواسی کمزور طبقات کا اعتماد جیتا ہے اور ریڈ کوریڈور ختم کر کے گروتھ کوریڈور دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت مجبور تھی اس لیے نکسل ازم سے لڑنے میں ناکام رہی اور یہ دو سو اضلاع تک پھیل گیا۔اپوزیشن کی مجبوریوں کا فائدہ پاکستان نے بھی اٹھایا۔ آئی ایس آئی نکسل ازم کو ملک میں جڑیں مضبوط کرنے میں مدد دے رہی تھی، لیکن کانگریس حکومت نے ملک کی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 11 برسوں میں ہماری حکومت نے کانگریس کی پیدا کردہ ہر بیماری کا علاج کیا ہے ۔ جس کانگریس نے ملک کی معیشت کو خراب کر دیا تھا، آج وہ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکی ہے ۔ آج ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن چکا ہے ۔