کانگریس کی 2اکٹوبر سے ’’بھارت جوڑو‘‘یاترا‘سونیا گاندھی کا اعلان

,

   

ادے پور نو سنکلپ اعلامیہ جاری‘داخلی اصلاحات کیلئے اندرون ہفتہ ٹاسک فورس کی تشکیل

سہ روزہ ’چنتن شیویر‘ کا اختتام

اْدے پور: راجستھان کے اْدے پور میں منعقدہ کانگریس کے سہ روزہ ’چنتن شیویر‘ کا اتوار کے روز اختتام ہوگیا۔ شیویر کے آخری دن کانگریس کی تشکیل شدہ 6 کمیٹیوں کے سربراہان نے پارٹی صدر سونیا گاندھی کو اپنی اپنی رپورٹ پیش کی۔ شیویر کے اختتامی اجلاس سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے خطاب کیا جبکہ سونیا گاندھی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔کانگریس پارٹی نے نو سنکلپ چنتن شیویر کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا، ہندوستان کی جنگ آزادی کی کوکھ سے جنم لینے والی انڈین نیشنل کانگریس لامحدود جدوجہد اور قربانیوں کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ ملک کے کروڑوں باشندگان نے کانگریس کی قیادت میں جس انقلاب کا آغاز کیا تھا، وہ برطانوی حکومت سے آزادی حاصل کر کے اپنی حکومت اور اپنے آئین کے لئے تو تھا ہی، اس کا مقصد ہر طرف پھیلی عدم مساوات، امتیازی سلوک، تعصب، قدامت پسندی، چھوچھات اور تنگ نظری کو ختم کرنے کرنا بھی تھا۔حب الوطنی اور قربانی کا احساس، سرشار آزادی کی تحریک کی بنیاد، سب کے لیے انصاف، کروڑوں کانگریسیوں نے آزادی کی جدوجہد میں جیل کے غیر انسانی تشدد کو برداشت کیا اور مادر ہند کی آزادی کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ان کے معاونین نے نہ صرف ملک کو متحد کیا بلکہ منصوبہ کمیشن اور پنج سالہ منصوبے کے توسط سے سے اناج، ڈیم اور آبپاشی، پاور پلانٹ، جوہری توانائی، سڑک، ریل، مواصلات، سیکورٹی، تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں، فیکٹریوں اور بنیادی ڈھانچہ اور ترقی کی بنیاد کھڑی کی۔1980 کی دہائی میں ایک بار پھر کانگریس نے 21ویں صدی کے ہندوستان کی بنیاد رکھی۔ ایک طرف ٹیلی کمیونیکیشن انقلاب کا عروج ہوا، دوسری طرف پنچایتی راج اور شہری اداروں کو آئینی حیثیت فراہم کر کے مرکزیت کو کم کیا۔ کمپیوٹر اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے انقلاب نے جدید ہندوستان کی تعمیر میں سب سے اہم کردار ادا کیا، جس کے خوشگوار نتائج بھی نظر آ رہے ہیں۔ اس کے بعد 1990 میں جب معیشت پر خطرے کے بادل منڈلائے تو کانگریس نے ایک مرتبہ پھر اقتصادی لبرلائزیشن اور عالمگیریت کی شروعات کر کے ہندوستان کی ترقی اور معیشت کو ایک نئی سمت فراہم کی۔اس کے بعد 2004 سے 2014 تک کانگریس کے دور اقتدار میں بھی ہندوستان نے ترقی کے نئے راستے طے کئے۔ ایک طرف سونیا گاندھی کی قربانی اور دوسری طرف ڈاکٹر منموہن سنگھ کی اقتصادی مہارت نے ملک کو نئی بلندیاں پر پہنچا دیا۔ سونیا گاندھی، ڈاکٹر منموہن سنگھ، راہل گاندھی کی اجتماعی قیادت اور دور اندیشی نے بااختیار ہندوستان کی تعمیر کی۔ اس دوران منریگا کے تحت لوگوں کو حق روزگار، حق غذائیت، حق تعلیم جیسے اہم حقوق حاصل ہوئے۔کئی طرح کی سازشی قوتوں کو یہ پسند نہیں آیا کہ یہاں کے عوام کو سماجی حقوق حاصل ہوں اور یہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رہے اس لئے طرح طرح کے حربہ استعمال کر کے لوگوں کے حقوق چھیننے کی کوشش کی گئی۔ نوٹ بندی کے نام پر ملک کے روزگار اور کاروبار پر حملہ کیاگیا، جی ایس ٹی کے نام پر چھوٹے چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو تالابندی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا۔ پھر کورونا کے نام پر لاک ڈاؤن لگا کر بھی لوگوں کو تِل تِل مرنے پر مجبور کیا گیا۔ تکبّر کا یہ عالم تھا کہ گنگا نعشوں سے اٹی پڑی تھی لیکن متکبر حکمران کو وہ نعشیں نظر نہیں آئیں۔گزشتہ 8 سال میں ملک میں بے روزگاری کا دور دورہ ہے، مہنگائی کی آگ نے ہر کسی کو جھلسا دیا ہے۔ گیس سلنڈر خریدنا بھی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ جبکہ پٹرول، ڈیزل، آٹا، تیل، دالیں، سبزیاں، روزانہ استعمال کی چیزوں کے دام آسمان پر ہیں۔ روپیہ گر رہا ہے، لوگوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے اور حکومت ہر سرکاری ادارے کو فروخت کرنے پر آمادہ ہے۔ اپنی انہی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے موجودہ بی جے پی حکومت ملک میں فرقہ وارانہ دشمنی کا ماحول تیار کر رہی ہے۔ اقلیتوں، دلتوں اور غریبوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بی جے پی مذہب اور ذات کے نام پر نفرت کے بیج بوکر طاقت کی بھوک مٹا رہی ہے۔ اس سے ملک کے مستقبل پر شدید خطرہ لاحق ہے۔ان تمام مسائل پر غوروخوض کے لئے کانگریس نے نو چنتن سنکلپ شیویر کا انعقاد کیا۔ چھ کمیٹیوں نے اپنی اپنی رپورٹ پیش کی۔ حال ہی میں انتخابات میں پارٹی کی توقعات کے مطابق نتائج برآمد نہ ہونے پر تنظیمی خامیوں پر کھلے دل سے بحث کی گئی۔ تمام چھ کمیٹیوں نے جو تجاویز پیش کی ہیں اس سے کئی اہم نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ٹھیک 80 سال پہلے 1942 میں مہاتما گاندھی نے ’بھارت چھوڑو کا نعرہ دیا تھا۔ سال 2022 میں ملک کا نعرہ ہے ’بھارت جوڑو‘۔ یہی ہے اْدے پور کا نو سنکلپ (نیا عزم)۔