ماہانہ 100 کروڑ دہلی کو روانہ کرتے ہوئے ریونت ریڈی چیف منسٹر کے عہدے پر برقرار
حیدرآباد ۔ 7 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ ریونت ریڈی تلنگانہ کا چیف منسٹر بنے رہنے کے لیے ماہانہ 100 کروڑ روپئے دہلی روانہ کررہے ہیں ۔ ریاست میں کانگریس کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔ ریاست میں آئندہ بی آر ایس کی حکومت قائم ہوگی ۔ کھمم میں بی آر ایس کے نو منتخب سرپنچوں کی تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس حکومت کی دو سالہ کارکردگی مایوس کن ہے ۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔ پھر بھی ریونت ریڈی ہر ماہ دہلی کو 100 کروڑ روپئے ادا کرتے ہوئے چیف منسٹر کے عہدے پر برقرار ہیں ۔ ریونت ریڈی اس سے پارٹی ہائی کمان کو تو مطمئن کرلیے مگر ریاست کے عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں ۔ سرپنچ کے انتخابات بی آر ایس کے لیے کوارٹر فائنل تھے جس میں بی آر ایس نے بہتر مظاہرہ کیا ہے ۔ بلدیاتی انتخابات سیمی فائنل ہوں گے ۔ اس میں بھی بی آر ایس پارٹی کے توقع سے زیادہ بہتر مظاہرہ کرنے کے قوی امکانات ہیں ۔ 2028 میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات فائنل ہوں گے جس میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے بی آر ایس دوبارہ حکومت تشکیل دے گی اور کے سی آر ریاست کے چیف منسٹر بنیں گے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریاست کی کابینہ میں ضلع کھمم سے دو وزراء اور ایک ڈپٹی چیف منسٹر ہونے کے باوجود ضلع کھمم کے عوامی مسائل حل نہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی ترقیاتی اقدامات کئے گئے ۔ کسان بہت زیادہ پریشان ہیں ۔ یوریا کی قلت سے کسان کانگریس حکومت پر اپنی ناراصگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ کانگریس کا دور حکومت وعدوں سے انحراف اور غریب عوام کے مکانات کے انہدامی دور میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ سوال کرنے والوں پر حکومت ظلم و زیادتی کررہی ہے ۔ جھوٹے مقدمات درج کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں لارہی ہیں ۔ ضلع کھمم میں عوام کانگریس حکومت کے خلاف ہیں ۔ آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس پارٹی آسانی کے ساتھ 7 تا 8 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرے گی ۔ انہوں نے کانگریس کو 30 فیصد کمیشن والی حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے بغیر کوئی کام نہیں ہورہا ہے اور نہ ہی بلز جاری کئے جارہے ہیں ۔ 2
