’کانگریس کے سوشل میڈیا پر اچھے دن، گیم پلٹ گیا‘

   

ایک وقت تھا جب بی جے پی کا آئی ٹی سیل سرخیوں میں ہوتا تھا ، سپریا شرینیٹ میڈیا کی باریکیاں سمجھتی ہیں: م افضل

نئی دہلی: ملک میں کسی کے اچھے دن آئے ہوں یا نہیں لیکن کانگریس کی سوشل میڈیا کے اچھے دن ضرور آگئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا آئی ٹی سیل سرخیوں میں ہوتا تھا ، لیکن اب گیم پوری طرح پلٹ گیا ہے ۔ اب سوشل میڈیا پر کانگریس ایک نظریہ پیش کر رہی ہے یعنی نیریٹو سیٹ کر رہی ہے جس کا لوگوں پر خاصا اثر نظر آرہا ہے اور بی جے پی جو کبھی اس میدان میں کافی آگے چل رہی تھی، اب کانگریس کے آئی ٹی سیل کا تعاقب کر رہی ہے اور کئی مرتبہ تو تعاقب کرنے میں بھی بی جے پی کے پسینے چھوٹتے نظر آ رہے ہیں۔کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے سابق رکن افضل نے میڈیا سے بات چیت کے دوران ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آج کہا کہ یہ بات صرف ہوا ہوائی نہیں ہے ، بلکہ اعداد و شمار بھی اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے گزشتہ سال جون میں امنگوں سے بھری ایک نئی ٹیم کو سوشل میڈیا کی کمان سونپی تھی۔ افضل نے بتایا کہ کانگریس نے محترمہ سپریہ شرینیٹ کو سوشل میڈیا کا چیئر پرسن بنایا، جو کانگریس کی قومی ترجمان بھی ہیں۔ سپریہ اس سے پہلے ٹائمز گروپ کی ایگزیکٹو ایڈیٹر رہ چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی شاندار اور باریک سمجھ رکھتی ہیں۔ سپریہ شرینیٹ کی شاندار حکمتِ عملی کا ہی نتیجہ ہے کہ چند مہینوں میں ہی کانگریس کی سوشل میڈیا نے بی جے پی کو چاروں شانے چت کر دیا۔کانگریس بی جے پی سے کس قدر آگے نکل چکی ہے ۔اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ جب محترمہ سپریہ شرینیٹ کو کانگریس سوشل میڈیا کی کمان سونپی گئی تھی، اس وقت ٹوئٹر پر صرف 40 سے 48 ملین امپریشن آتے تھے ، جو اب 243 فیصد اضافہ کے ساتھ 165 ملین تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹوئٹر پر کانگریس کے فالوور بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس کے جلد ہی 10 ملین تک پہنچ جانے کی توقع ہے ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر نے اپنا دعوی پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ٹوئٹر پر بی جے پی کے فالوور کی تعداد 20 ملین سے زیادہ ہے لیکن اس کے like اور ری ٹویٹ کانگریس کے مقابلے میں بہت کم ہوتے ہیں۔ افضل نے دعوی کیا کہ بی جے پی کے پچھلے 30 ٹویٹ کی ریچ جہاں محض 5 لاکھ ہے ، وہیں کانگریس کے پچھلے 30 ٹویٹ کی ریچ 48 لاکھ سے زیادہ ہے ۔ یعنی 30 ٹویٹ کی ریچ میں تقریباً 43 لاکھ کا فرق ہے ۔ٹوئٹر کے علاوہ کانگریس سوشل میڈیا کے دوسرے ہینڈل بھی بہتر عروجکی طرف گامزن ہیں۔