کانگریس کے سینئر لیڈر پونالہ لکشمیا نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا

   

45 سالہ وابستگی ختم، پارٹی میں توہین کا الزام، بی آر ایس میں شمولیت کی افواہیں
حیدرآباد ۔13۔اکتوبر (سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات سے عین قبل تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کو ایک بڑا جھٹکہ لگا جب پارٹی کے سینئر قائد اور سابق صدر پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا نے کانگریس پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ پارٹی میں بی سی طبقات سے ناانصافی اور سینئر قائدین کو نظر انداز کرنے کی شکایت کرتے ہوئے پونالہ لکشمیا نے استعفیٰ کا مکتوب کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کو روانہ کیا۔ پونالہ لکشمیا متحدہ آندھراپردیش میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت میں وزیر تھے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد انہوں نے صدر پردیش کانگریس کے عہدہ پر خدمات انجام دی۔ اسمبلی انتخابات میں وہ جنگاؤں اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ کے خواہاں تھے لیکن ٹکٹ کے امکانات موہوم دیکھتے ہوئے انہوں نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پونالہ لکشمیا بی آر ایس میں شمولیت اختیار کریں گے اور جنگاؤں اسمبلی حلقہ سے بی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کریں گے۔ بی آرایس نے جنگاؤں کے لئے پارٹی امیدوار کا ابھی تک اعلان نہیں کیا ہے۔ مکتوب میں پونالہ لکشمیا نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی امیدواروں کے سلیکشن میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ سینئر قائدین سے مشاورت کے بغیر ہی امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں بزنس کلچر عام ہوچکا ہے اور صلاحیت اور اہلیت کے بجائے دولت کی بنیاد پر ٹکٹ الاٹ کئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض قائدین کے رویہ کے نتیجہ میں پارٹی کا وقار مجروح ہوا ہے۔ کانگریس نے اودے پور ڈکلیریشن کے ذریعہ جو فیصلے کئے تھے، انہیں نظر انداز کردیا گیا ۔ پارٹی نے سینئر قائدین کی توہین کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ سے وہ ہائی کمان سے ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں وقت نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھ جیسے سینئر قائد کو ملاقات کا وقت نہ دینا پارٹی کی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ نئی دہلی پہنچ کر 10 دن تک میں جنرل سکریٹری اے آئی سی سی کے سی وینو گوپال سے ملاقات کی کوشش کی لیکن ایک منٹ بھی نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بی سی طبقات کو موثر نمائندگی کیلئے نئی دہلی میں ہائی کمان نے ملاقات سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سے تعلق نہ رکھنے والے افراد کو عہدے دیئے گئے ہیں۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونالہ لکشمیا نے استعفیٰ کی وجوہات بیان کی اور کہا کہ پارٹی میں انہوں نے کئی مرتبہ توہین کو برداشت کیا ہے۔ 45 سال تک کانگریس سے وابستہ رہا اور 4 مرتبہ اسمبلی کیلئے منتخب ہونے کے باوجود پارٹی میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ 12 سال تک میں نے وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دی باوجود اس کے بی سی قائدین کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے ۔ 45 سال تک وابستگی کا جذباتی انداز میں ذکر کرتے ہوئے پونالہ لکشمیا نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کانگریس پارٹی برسر اقتدار آئیں لیکن موجودہ قیادت کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔