کانگریس کے طفیل میں علحدہ ریاست اور کے سی آر چیف منسٹر

,

   

اسمبلی میں کانگریس پر تنقیدیں مسترد، جگاریڈی اور راجگوپال ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ کانگریس ارکان اسمبلی جگا ریڈی اور راجگوپال ریڈی نے اسمبلی میں کانگریس سے متعلق چیف منسٹر کے سی آر کے بیان پر سخت تنقید کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ارکان اسمبلی نے کہا کہ چیف منسٹر یہ سوال کررہے ہیں کہ کانگریس پارٹی نے کیا کیا۔ کانگریس کی وجہ سے کے سی آر مرکزی وزیر بنائے گئے اور تلنگانہ کی تشکیل کانگریس کا کارنامہ ہے۔ ریاست کی تشکیل کی وجہ سے کے سی آر چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہوسکے۔ کانگریس پارٹی اس سے زیادہ کے سی آر کیلئے اور کیا کرے گی۔ جگا ریڈی نے کہا کہ اسمبلی کے حالات سے عوام بخوبی واقف ہیں جس طرح عوام کی حالت ہے وہی حال اسمبلی میں کانگریس ارکان کا ہے۔ اظہار خیال کیلئے کانگریس ارکان کو موقع نہیں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے تلنگانہ ریاست تشکیل دی جس کا اعتراف خود کے سی آر نے کیا تھا لیکن آج وہ اپنا موقف تبدیل کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے پی وی نرسمہاراؤ کو وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز کیا۔ انہوں نے کے سی آر کی جانب سے قومی پارٹی کے قیام سے متعلق اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی پارٹی کے قیام کی صورت میں کے سی آر ملک میں مذاق کا موضوع بن جائیں گے۔ قومی سیاست میں کسی علاقائی جماعت کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی علاقائی جماعتیں قومی سطح پر اُبھرنے کی کوششوں میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ ملک میں بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ کوئی مضبوط سیاسی جماعت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے عہدہ کی خواہش مایاوتی اور شرد پوار نے کی تھی لیکن آج تک بھی وہ پوری نہیں ہوئی۔ کے سی آر نے تلنگانہ میں دلت کو چیف منسٹر بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن خود اس عہدہ پر فائز ہوگئے لہذا مخالف دلت کے سی آر کو مایاوتی کی تائید حاصل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے ساتھ دیگر علاقائی جماعتیں شامل نہیں ہوں گی۔ کانگریس کی مدد کے بغیر کوئی بھی وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اور دیگر پارٹیوں کے نظریات میں کافی فرق ہے۔