کانگریس کے مسلم ڈیکلریشن کی تیاری پر سرگرم مشاورت

   

مانک راؤ ٹھاکرے، ریونت ریڈی اور محمد علی شبیر کا اجلاس، تحفظات اور تعلیمی ترقی اولین ترجیح

حیدرآباد۔/19 جولائی، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے علاوہ او بی سی طبقات کیلئے ڈیکلریشن کی تیاری کا آغاز کردیا ہے۔ ان طبقات کیلئے علیحدہ ڈیکلریشن جاری کئے جائیں گے جس میں کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کے وعدے شامل ہوں گے۔ مسلم ڈیکلریشن اور او بی سی ڈیکلریشن کو قطعیت دینے کیلئے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر کی قیامگاہ پر اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے، صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور سکریٹری اے آئی سی سی روہت چودھری نے تفصیلی مشاورت کے بعد ڈیکلریشن کے امور کو قطعیت دی ہے۔ مسلمانوں اور او بی سی طبقات کیلئے ڈیکلریشن کے مسودے کو قطعیت دیتے ہوئے ماہرین کی رائے اور تجاویز حاصل کی جائیں گی جس کے مطابق ڈیکلریشن کو انتخابی منشور کا حصہ بنایا جائے گا۔ کرناٹک میں کانگریس کی جانب سے مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 4 فیصد مسلم تحفظات کے سپریم کورٹ میں بہر صورت تحفظ کیلئے قانونی جدوجہد کا وعدہ کیا جائے گا۔ کانگریس پارٹی نے وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے جو تعلیم اور روزگار میں آج بھی برقرار ہیں۔ سپریم کورٹ میں مسلم تحفظات کے مسئلہ پر چندر شیکھر راؤ حکومت کی پیروی غیر اطمینان بخش ہے لہذا کانگریس پارٹی مسلم تحفظات کو برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کرے گی۔ تحفظات کے مقدمہ میں کامیابی کے بعد مسلمانوں کے تحفظات میں اضافہ پر بھی غور کیا جائے گا۔ اسکالر شپ، فیس باز ادائیگی اور اوورسیز اسکالر شپ کیلئے درکار فنڈز جاری کئے جائیں گے اور مسلمانوں میں بیروزگار نوجوانوں کو خود روزگار اسکیمات کے تحت قرض اور سبسیڈی فراہم کی جائے گی۔ سرکاری محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات میں مسلم تحفظات پر عمل کیا جائے گا۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ ابتدائی مذاکرات میں مسلم ڈیکلریشن کے مسودہ کو قطعیت دی گئی ہے۔ مسلم اور او بی سی طبقات کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد ڈیکلریشن جاری کیا جائے گا۔ر