کانگریس ہائی کمان متحرک، تلنگانہ پر خصوصی نظر

   

ڈی کے شیوکمار کرناٹک کے 6 وزراء کیساتھ خصوصی ذمہ داریوں کیساتھ حیدرآباد پہونچ گئے
شہر کے 2 اسٹار ہوٹلوں میں 100 رومس بک ، سشیل کمار شنڈے ، چدمبرم اور سرجیوالا کی آج حیدرآباد آمد
حیدرآباد ۔ 2 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ میں کامیابی کے اشارے ملنے کے بعد کانگریس ہائی کمان پوری طرح متحرک ہوگئی ہے اور اس سلسلہ میں کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار کو خصوصی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ نئی ذمہ داری کے ساتھ کرناٹک کے چھ وزراء کے ہمراہ آج شام حیدرآباد کو پہونچ گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ کانگریس ہائی کمان نے کانگریس کے تین قومی قائدین پی چدمبرم ، سشیل کمار شنڈے اور سرجیوالا کو مبصرین بناکر حیدرآباد روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ تینوں قائدین اتوار کو حیدرآباد پہونچ جائیں گے ۔ پارٹی کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس پارٹی تلنگانہ پر خصوصی توجہ مرکوز کرچکی ہے ۔ پل پل کی خبر حاصل کررہی ہے اور پارٹی قائدین کو مشورے بھی دے رہی ہے ۔ کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار خصوصی ذمہ داری کے ساتھ حیدرآباد پہونچ چکے ہیں ۔ ذرائع سے پتہ ہے کہ راہول گاندھی نے تلنگانہ پردیش کانگریس کے صدر اے ریونت ریڈی ، کانگریس قائد مقننہ ملوبٹی وکرامارک اور اتم کمار ریڈی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے ۔ مقابلہ کرنے والے تمام امیدواروں سے رابطہ بنائے رکھنے پر زور دیا ہے ۔ ساتھ ہی چیف منسٹر کے سی آر اور بی آر ایس قائدین کی جانب سے کانگریس کے امیدواروں سے رابطہ پیدا کرنے کا بھی سخت نوٹ لیا گیا ہے ۔ بی آر ایس کی توڑ جوڑ حکومت تشکیل دینے کی سازش کوناکام بنانے کی ہدایت دی ہے ۔ جن امیدواروں پر شکوک ہے ان پر خاص نظر رکھنے کی ہدایت دینے کا بھی علم ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ کانگریس پارٹی نے خصوصی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے شہر حیدرآباد کی دو فائیو اسٹار ہوٹلوں میں 100 سے زائد رومس بک کرنے کی بھی اطلاعات بھی وصول ہورہی ہے ۔ ساتھ ہی ریاست کے 49 مراکز میں ووٹوں کی گنتی ہورہی ہے ۔ تمام مراکز پر اے آئی سی سی مبصرین کو روانہ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے تاکہ کامیابی کا سرٹیفیکٹ حاصل کرنے والے کانگریس کے ارکان اسمبلی کو کاونٹنگ مراکز سے راست طور پر حیدرآباد منتقل کیا جاسکے ۔ یہی نہیں ضرورت پڑنے پر کانگریس کے ارکان اسمبلی کو بنگلور کیمپ منتقل کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔ کانگریس کے اضلاع قائدین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کانگریس کے امیدواروں کے ساتھ رہے اور ان کی نقل و حرکت پر پارٹی قیادت کو پل پل کی اطلاع دیتے رہے ۔ اگر کسی کے بارے میں کوئی شکوک ہے تو اس سے بھی واقف کرائے ۔ کانگریس پارٹی کسی بھی غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ حکومت تشکیل دینے کے لیے ضروری تمام احتیاطی اقدامات کررہی ہے ۔۔ ن