نئی دہلی: منگل کو ہونے والے اجلاس میں متفقہ طور پر تین اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس میں یہ جانکاری دیتے ہوئے کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ پارٹی نے ہر وارڈ، ہر گاؤں تک ممبر شپ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین اور اقلیتیں آج حکومت کے ظالمانہ ظلم کا سامنا کر رہی ہیں۔ پٹرول، ڈیزل اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ایل پی جی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ سرجے والا نے کہا کہ بے روزگاری اور دیگر مسائل کا واحد حل کانگریس میں شامل ہونا ہے۔ بی جے پی نے ملک کی جمہوریت پر حملہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جو بھی وزیر اعظم مودی کے خلاف بول رہا ہے اسے جیل بھیج دیا جا رہا ہے۔ کانگریس نے اس کے خلاف نظریاتی جنگ چھیڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت 14 نومبر سے جن جاگرن ابھیان شروع کیا جائے گا۔ سرجے والا نے اس دوران کہا کہ گوا کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے جو انکشافات کیے ہیں وہ اپنے آپ میں سنگین ہیں۔ یہ خود بی جے پی کے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے کردار پر سوال ہے۔