لکھنؤ: لوک سبھا انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سے قبل سماجو ادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے بی جے پی کیزیر قیادت این ڈی اے حکومت کی خامیوں کو شمار کرایا ہے ۔اکھلیش نے پیر کو پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں این ڈی اے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک شعر سے اپنی بات شروعکی۔ انہوں نے کہا’ جتنی اونچائی پر جا کر کٹتی ہے پتنگ، اتنا ہی بڑا ہوتا ہے اس کا پتن’۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا۔ آئین کے ذریعہ دئیے گئے ریزرویشن کو سازش کے تحت ختم کرنے کے لئے بے روزگاروں سے دھوکہ کیا۔ پیپر لیک کرائے ۔ بہن بیٹیوں کے لئے جان بوجھ کر اپنے وزراء سے نازیبا کلمات کہلوائے ۔ خواتین کے تئیں جرائم میں اضافہ ہوا۔ منی پور، ہاتھرس، خاتون پہلوان، پچھڑے ، دلت،اقلیت اور قبائلیوں پر مظالم کا سب سے خراب ریکارڈ بنا۔ایس پی صدر نے الکٹورل بانڈ کو تاریخی بدعنوانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعہ منافع خوری کو بڑھاوا دیا گیا جس نے مہنگائی کو بڑھایا۔ نوٹ بندی سے کاروبار تباہ ہوا۔ بدعنوان جی ایس ٹی سے چھوٹے دوکانداروں تک کو کساد بازاری کا شکار بنا دیا۔ کسانوں کی زمین ہڑپنی چاہی، کالے قانون لانے چاہے ۔ کھاد کی بوری ۔چوری کی اور کسانوں کو ان کی پیداوار کی نفع بخش قیمت نہیں دی گئی۔یادو نے کہا کہ 45 سال کی سب سے بڑی بے روزگاری میں ملک کو دھکیل دیا گیا۔ مہنگائی نے غریب کو مزید غریب بنا دیا اور امیروں کے اربوں کا قرض معاف کئے لیکن کسانوں کو قرض کے لئے خود کشی کے لئے مجبور کیا گیا۔ سود کی شرحین کم کر کے مڈل کلاس کی بچت کو بے کار کر دیا۔ اخلاقی طور سے چندے تک کا پیسہ کھا گئے ۔ کیئر فنڈ کے نام کے آگے پی ایم کے نام کا استعمال کر کے بعد میں حساب دینے سے منع کردیا۔یادو نے ویکسین کے معاملے میں بھی بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ ساتھ ہی اپنے حامیوں کو پرتشدد بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے مجرمانہ معاملوں میں ملوث افراد کو عہدوں سے نوازہ جنہوں نے کسانوں کا قتل کیا اور خواتین کا استحصال کیا۔
آئین کو پہلے کمزور کرنے اور بعد میں ختم کرنے کی سازش رچنے کا الزام لگایا گیا۔