وائس چانسلر کے بغیر تقررات ناممکن، وائس چانسلرس کے تقررات میں حکومت کی پہلوتہی
حیدرآباد : تلنگانہ کی ایک بہت اہم اور باوقار یونیورسٹی ہونے کے باوجود کاکتیہ یونیورسٹی ورنگل میں تقریباً دو تہائی فیکلٹی پوسٹس مخلوعہ ہیں۔ اس یونیورسٹی سے ہر سال ہزاروں گریجویٹس فارغ التحصیل ہوکر نکلتے ہیں۔ یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات میں فیکلٹی پوسٹس کی جملہ تعداد 391 کے منجملہ 279 پوسٹس مخلوعہ ہیں حالانکہ اس یونیورسٹی کی طلبہ تحریکوں کے ایک مرکز کے طور پر اکثر ستائش کی جاتی ہے جس نے تلگو سماج میں کئی تبدیلیاں لائیں اور یہاں کے طلبہ نے علحدہ تلنگانہ کا مطالبہ کرتے ہوئے کافی جدوجہد کی اور تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ کاکتیہ یونیورسٹی میں گذشتہ چھ سال سے فیکلٹی کی قلت ہے اور کسی نے آج تک اس مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ جملہ سات کالجس اور 25 شعبوں پر مشتمل کاکتیہ یونیورسٹی دیہی پس منظر کے طلبہ کی بڑی تعداد کیلئے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ جائیدادوں کی منظوری سے متعلق ریکارڈس سے معلوم ہوتا ہیکہ حالانکہ حکام نے 54 پروفیسرس، 95 اسوسی ایٹ پروفیسرس اور 242 اسسٹنٹ پروفیسرس کے تقررات کو منظوری دی ہے۔ تاہم یونیورسٹی میں فی الوقت صرف 112 ریگولر پروفیسرس ہیں۔ اے بی وی پی کاکتیہ یونیورسٹی یونٹ کے صدر سندیپ کمار نے کہا کہ کئی شعبوں میں صرف ایک پروفیسر ہی ہے اور ان میں سے چند جلد ہی ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ پروفیسرس کے بغیر یونیورسٹی کس طرح کام کرسکتی ہے۔ کیا حکومت اس یونیورسٹی کو بند کردینا چاہتی ہے؟۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک حقیقت ہیکہ وائس چانسلر کے بغیر ریگولر اسٹاف کا تقرر نہیں کیا جاسکتا ہے چونکہ کئی پروفیسرس جلد ہی ریٹائر ہوں گے اس لئے زیادہ تر شعبوں کو کنٹراکٹ اور پارٹ ٹائم لکچررس سے چلایا جائے گا۔ ریگولر کورسیس سیلف فینانس کورسیس ہوجائیں گے اس سے طلبہ پر بھاری بوجھ پڑے گا۔ یونیورسٹی کے چند عہدیداروں نے بھی فیکلٹی کی قلت کا اعتراف کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مختلف وجوہات کے باعث رکروٹمنٹ کے عمل میں تاخیر ہورہی ہے جس کے نتیجہ میں وہ کنٹراکٹ اور پارٹ ٹائم لکچررس کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔