مطالبہ کی تکمیل تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان ۔ مجھے گرفتار کرلیا جائے تو جیل بھرو احتجاج کیا جائے ۔ ابھیجیت ڈپکے
نئی دہلی 20 جون ( ایجنسیز ) مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی نے آج دہلی کے جنتر منتر پر اپنا دوسرا مظاہرہ کیا ۔ اس احتجاج میں بھی ہزاروں کی تعداد میں نوجوان جمع ہوئے اور انہوں نے دھرمیندر پردھان سے استعفی کا مطالبہ کیا ۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے بھی احتجاج میں موجود رہے اور انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک دھرمیندر پردھان استعفی پیش نہیں کرتے اس وقت تک دھرنے کو ختم نہیں کیا جائے گا ۔ دن میں ایک بجے اس احتجاجی مظاہرہ کا آغاز ہوا تھا جس کو پولیس نے شام پانچ بجے تک جاری رکھنے کی اجازت دی تھی ۔ تاہم ابھیجیت ڈپکے نے احتجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کیا اور انہوں نے نوجوانوں ‘ طلباء اور ان کے والدین سے اپیل کی کہ وہ چھ بجے تک جنتر منتر پہونچ جائیں اور اس احتجاج میں شامل ہوجائیں ۔ پہلے احتجاج کی طرح آج بھی دہلی کے علاوہ پڑوسی ریاستوں سے نوجوانوں اور طلباء نے شرکت کی ۔ پولیس نے ابھیجیت ڈپکے کو شام پانچ بجے تک احتجاج کی اجامت دی تھی تاہم ڈپکے نے اعلان کیا کہ یہ احتجاج دھرمیندر پردھان کے استعفی تک جاری رہے گا اور اس کو ختم نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر پر پولیس کی جانب سے داخلہ پوائنٹس بند کئے جا رہے ہیں اور طلباء اور احتجاج میں شامل نوجوانوں کو پانی تک لینے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے پولیس سے احتجاج میں تعاون کی اپیل کی اور نوجوانوں طلباء سے اپیل کی تھی کہ وہ شام 6 بجے تک بھی یہاںپہونچ جائیں۔ ڈپکے نے شام کے بعد ایک ویڈیو سوشیل میڈیا پر پیش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ انہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے ۔ پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کی تیاریاں کرلی ہیں اور شائد وہ انہیں حراست میں لینے کیلئے پہونچ رہی ہے ۔ ڈپکے نے نوجوانوں اور طلباء پر زور دیا کہ اگر انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے تب بھی وہ احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو ملک بھر میں طلباء اور نوجوانوں کی جانب سے جیل بھرو احتجاج شروع کردیا جائے گا ۔ پتہ چلا ہے کہ شام کے بعد سے پولیس نے نوجوانوں اور طلباء کا جنتر منتر سے تخلیہ کروانے کی کوشش بھی کی ہے تاہم نوجوان وہاں موجود رہے اور کہا کہ جب تک دھرمیندر پردھان استعفی پیش نہیں کرتے اس وقت تک ان کا مظاہرہ جاری رہے گا ۔