عالم اسلام کے ممتاز محققین کی مجلس سے علمی وابستگی ، جامعہ نظامیہ میں سمینار اسکالرس کے مقالے
حیدرآباد /10 ڈسمبر ( پریس نوٹ ) حیدرآباد علمی معارف کا گہوارہ اور علم و فن کا مرکز ہے ۔ مجلس احیاء المعارف النعمانیہ ان ہی میں سے ایک ہے جس نے ایک صدی قبل مجلس احیاء المعارف النعمانیہ اور فقہ حنفی کی امہات الکتب کی صیانت کیلئے جو کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں اسے عالم اسلام نے سراہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ نظامیہ میں منعقدہ سمینار میں کیا گیا ۔ جو شیخ الاسلام امام محمد انور اللہ فاروقی علیہ رحمہ کے عرس شریف کے ضمن میں 10 ڈسمبر 2023 بروز اتوار کو منعقد کیا گیا تھا ۔ مفکر اسلام مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے صداتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال بزبان عربی احیاء المعارف النعمانیہ کی تحقیقی و دینی خدمات پر علمی سمینار منعقد کیا گیا ۔ مولانا ابوالوفاء افغانی نے باوجود نیوی ذرائع نہ ہونے کے اس دور میں کثیر مصارف کے ذریعہ قیمتی سرمایہ جمع کیا اور قوم کو اسلامی علوم اور فقہ حنفی سے روشناس کروایا ۔ حضرت مفکر اسلام نے طلبہ کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ وہ تعلیم و تعلم کے ساتھ تحقیق کے میدان میں آگے آئیں ۔ مولانا ڈاکٹر سعید بن مخاشن نے کہا کہ مجلس احیاء المعارف النعمانیہ عالم اسلام کا ایک ممتاز تحقیقی ادارہ ہے جس نے دنیا بھر کے علمی مراکز اور مکتبات کو تلاش کرکے نادر اور نایاب مخطوطات حاصل کئے اور ساری دنیا کے سامنے پیش کردیا ۔ مولانا مفتی حافظ سید واحد علی نے کہا کہ حضرت ابوالوفاء افغانیؒ نے کتاب الردعلی سیرالاوزاعی کی تحقیق کی اور یہ انوکھی تحقیق اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں محقق افغانی نے 54 رجال کے تراجم لکھے اور تقریباً 90 کتابوں کے حوالہ جات دئے ۔ مولانا حامد بن محمد نے کہا کہ مناقب امام اعظم اور صاحبین پر لکھی ہوئی کتاب جو شافعی عالم دین امام ذھبی نے تالیف کی ہے اور اس پر جامعہ کے عظیم سپوت نے جامع تحقیق کی ۔ مولانا حافظ محمد فیروز خان نے کتاب الاصل کے حوالے سے حضرت ابوالوفاء افغانی کی تحقیق کے اسلوب پر اپنا مقابلہ پیش کیا ۔ مولانا سید جمیل الدین نے کہا کہ یہ کتاب تقریباً بیس سال کی محنت شاقہ اور تحقیق کے بعد احیاء المعارف النعمانیہ سے شائع کی گئی ۔ مولانا محمد وکیع الدین نقشبندی نے حضرت ابوالوفاء افغانی کی اصول سرحسی ، کی تحقیق کے حوالہ سے اپنا مقالہ پیش کیا ۔ عالم عرب میں اس کتاب پر مختلف جہات سے تحقیق کی گئی ۔ مولانا حافظ اسمعیل ہاشمی نے کلمات ترحیب تشکر پیش کیا ۔ مولانا محمد خالد علی نے نظامت کے فرائص انجام دئے ۔ شہ نشین پر شیوخ و نائبین و معتمد جامعہ اور اساتذہ جامعہ موجود تھے ۔ طلبہ قدیم و فارغین اور علم دوست کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔