کجریوال نے زرعی قوانین کی کاپیاں پھاڑ دیں

,

   

Ferty9 Clinic

دہلی اسمبلی میں ہنگامہ ، سیاہ قوانین کو واپس لینے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ

نئی دہلی: زرعی شعبے سے متعلق مودی حکومت کے تین قوانین کی جمعرات کو دہلی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں شدیدمخالفت ہوئی اور برسراقتدارجماعت عام آدمی پارٹی(عآپ)کے ارکان اسمبلی کی جانب سے ایوان میں قانون کی کاپیاں پھاڑنے سے ہنگامہ ہوگیا۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے یہ کہتے ہوئے زرعی قوانین کی کاپیاں پھاڑ دیں کہ ایسا کرنے کا ان کا ارادہ نہیں تھا لیکن میں اپنے ملک کے کسانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتا جو انتہائی سردی میں سڑکوں پر سو رہے ہیں جہاں کا درجہ حرارت محض 2 ڈگری سیلسیس ہے۔ کجریوال نے میں پہلے اس ملک کا شہری ہوں اور بعد میں چیف منسٹر ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی اسمبلی تین زرعی قوانین کو مسترد کرتی ہے اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کسانوں کے مطالبات کو پورا کرے۔ کجریوال نے کہا کہ کورونا وباء کے دوران پارلیمنٹ میں زرعی قوانین کو منظور کرنے کی کیا جلدی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ راجیہ سبھا میں ووٹنگ کے بغیر تین قوانین کو منظور کیا گیا۔ انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ برطانوی حکمرانوں سے زیادہ خراب نہ ہوں۔ کجریوال نے کہا کہ ہر کسان ، بھگت سنگھ بن گیا ہے ۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ کسانوں سے مل کر زرعی قوانین کے فوائد سے انہیں واقف کروانے کی کوشش کررہی ہے۔ دریں اثناء دہلی اسمبلی کا آج ایک روزہ خصوصی اجلاس طلب کیا گیاہے ۔اجلاس کے آغاز میں ہی وزیر ٹرانسپورٹ اور ماحولیات کیلاش گہلوت نے ایک قرارداد پیش کی، جس میں تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔تجویز پر بحث کے دوران حکمراں جماعت کے مہیندرگوئل اور سومناتھ بھارتی نے ایوان میں زرعی قوانین کی کاپیاں پھاڑدیں اور ’’جئے جوان ،جے کسان‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ جو قانون کسانوں کے حق میں نہیں ہے ، اسے قبول نہیں کریں گے ۔عآپ پارٹی زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کررہے کسانوں کے ساتھ نظرآرہی ہے ۔ پارٹی تینوں قوانین کو کسانوں کے خلاف بتاکر انہیں فوری واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہے۔