کجریوال کو چیف منسٹر کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد

   

نئی دہلی :سپریم کورٹ نے پیر 13 مئی کو اروند کجریوال کے جیل جانے کے بعد بھی دہلی کے وزیر اعلیٰ رہنے کے خلاف درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔درخواست گزار نے کہا کہ وزیر اعلی کجریوال ذاتی دلچسپی کی وجہ سے عہدہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ کجریوال کے جیل میں رہنے کی وجہ سے کئی اہم کام متاثر ہو رہے ہیں لیکن سپریم کورٹ نے کہا کہ اس پر غور کرنا ایل جی کے دائرہ اختیار میں ہے۔ عدالت کسی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم نہیں دے سکتی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ حق کی بات ہے لیکن اروند کجریوال کی گرفتاری کے بعد انہیں وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ دراصل دہلی شراب پالیسی سے متعلق معاملے میں ای ڈی کی گرفتاری کے بعد، عدالت میں کجریوال کو وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی ایک عرضی دائر کی گئی تھی۔عدالت نے یہ عرضی ایسے وقت میں مسترد کی ہے جب سپریم کورٹ نے حال ہی میں لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر اروند کجریوال کو یکم جون تک عبوری ضمانت دی ہے۔ تاہم کئی بار خود کجریوال اور دیگر عآپ رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔