کجریوال کیخلاف انکوائری کیلئے لیفٹیننٹ گورنر کا حکم

,

   

’’پلاٹس کو کروڑوں میں بیچ کر سرکاری ریکارڈ میں قیمت لاکھوں میں بتائی گئی‘‘

نئی دہلی : دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر سے موصولہ اطلاع کے مطابق دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال پر تین پلاٹ 4.54 کروڑ میں بیچنے اور کاغذ پر ان کی قیمت صرف 72.72 لاکھ روپے میں ظاہر کرنے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ اپنی اہلیہ سنیتا کجریوال کی مدد سے انہوں نے 45,000 روپے فی مربع گز کے بازار کی شرح پر پلاٹ فروخت کیے، لیکن لین دین کے کاغذات میں 8,300 روپے فی مربع گز دکھایا گیا۔اتنا ہی نہیں اروند کجریوال پر 25.93 لاکھ روپے کی اسٹامپ ڈیوٹی چوری کی شکایت میں بھی الزام لگایا گیا تھا۔یہ شکایت لوک آیکت کے ذریعے لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجی گئی تھی، جس میں اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اب لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے اسے آگے بڑھا کر چیف سکریٹری کو بھیج دیا ہے۔دہلی میں لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ اور عام آدمی پارٹی کے درمیان شروع ہونے والی لڑائی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر مسلسل سنگین الزامات لگا رہے ہیں۔ شراب گھوٹالہ سے شروع ہونے والے اس معاملہ میں کئی موڑ آئے ہیں۔دراصل یہ لیفٹیننٹ گورنر ہی تھے جنہوں نے نئی ایکسائز پالیسی کے خلاف سی بی آئی انکوائری کی سفارش کی تھی۔ یہ سفارش چیف سکریٹری کی رپورٹ کے بعد کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نئی ایکسائز پالیسی میں قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹینڈرز دیئے گئے۔اس کے بعد سے عام آدمی پارٹی اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا دور جاری ہے۔ اس کے بارے میں ونے کمار سکسینہ نے مبینہ جھوٹے الزامات کے سلسلے میں عام آدمی پارٹی کے کئی لیڈروں بشمول سنجے سنگھ، آتشی اور درگیش پاٹھک کو قانونی نوٹس بھیجا تھا، جسے آج عآپ کے ایم پی سنجے سنگھ نے کھلے عام پھاڑ دیا ہے۔