کجریوال کی گرفتاری پر بھی کانگریس کے ساتھ اتحاد ہوگا:عآپ

,

   

Ferty9 Clinic

عآپ اور کانگریس کے اتحاد سے بی جے پی کو صدمہ، قومی جنرل سکریٹری پاٹھک، کابینی وزراء بھاردواج اور آتشی کی پریس کانفرنس

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے کہا ہے کہ گرچہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو گرفتار کرالے ، لیکن لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کے ساتھ اتحاد ہوکر رہے گا۔اے اے پی کے قومی جنرل سکریٹری ڈاکٹر سندیپ پاٹھک، سینئر لیڈر اور کابینہ کے وزیر سوربھ بھاردواج اور آتشی نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گرچہ بی جے پی کجریوال کو گرفتار کرالے ، لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کے ساتھ اتحاد ضرورہوگا۔ پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی کو شروع سے ہی یقین تھا کہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان اتحاد نہیں ہونے والا ہے اور یہ لوگ اس بات سے خوش تھے کہ ان کا اتحاد نہیں ہونے والا ہے ۔ گزشتہ چند دنوں میں اتحاد کے حوالے سے بات چیت بہت اچھی طرح سے آگے بڑھی ہے اور یہ اتحاد تقریباً حتمی شکل میں پہنچ چکا ہے ۔ یہ سن کر بی جے پی کو صدمہ لگاہے ، ان کی ساری خوشیاں کافورہو گئیں ہیں۔ کجریوال کو گرفتار کرنے کی تیاریاں پچھلے دو سال سے چل رہی تھیں۔ اس نئی سیاسی صورتحال میں اب وہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے ذریعے مسٹر کیجریوال کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔پاٹھک نے کہا کہ جس دن یہ لوگ کجریوال کو گرفتار کریں گے ، پورے ملک میں سونامی آجائے گی۔ تمام اچھے لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ان کے تمام سیاسی اندازے الٹے پڑنے والے ہیں۔ جب ہم آج تک نہیں ڈرے تو آئندہ بھی ڈنے والے نہیں ہیں۔ ہم ملک کے لیے اتحاد میں جا رہے ہیں۔ ہم اپنے ذاتی فائدے کے لیے اتحاد میں نہیں جا رہے ہیں۔اس دوران بھاردواج نے کہا کہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان یہ معاہدہ ہو گیا ہے کہ کون سی پارٹی کس ریاست میں کتنی سیٹوں پر الیکشن لڑے گی، حالانکہ میڈیا کو اس کی امید نہیں تھی۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ باتیں دعوے کے ساتھ کہی تھیں۔انہوں نے کہا کہ اب یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آخر ایسا کیا ہے کہ مرکزی حکومت اتنی جلد بازی میں دکھا رہی ہے کہ اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ای ڈی کو چھوڑو۔ ای ڈی کا معاملہ تو عدالت میں پھنس گیا ہے ، اس لیے اب سی بی آئی کے ذریعے مسٹر کیجریوال کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ آتشی نے کہاکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلے 2-3 مہینوں میں، اروند کیجریوال کو یکے بعد دیگرے سات بار ای ڈی کے نوٹس ملے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت والی مرکزی حکومت نے اب سمجھ لیا ہے کہ وہ ای ڈی کے ذریعیکجریوال کو گرفتار نہیں کر سکے گی، اس لیے سی بی آئی کو سامنے لائی ہے ۔