کراچی : میرے لئے ہر بارش میں آفس پہنچنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ نارتھ کراچی سے شاہراہ فیصل تک کچھ منٹ کا سفر کئی گھنٹوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میری بائیک سڑکوں پر جمع پانی کی وجہ سے خراب نہ ہوئی ہو۔ یہ کہنا ہے کراچی کے مکین محمد جبران کا، جو ایک خانگی کمپنی میں ملازم ہیں۔ مجھے نوکری کرتے ہوئے آٹھ برس ہو گئے ہیں، جب بھی مانسون کا سیزن آتا ہے میں ذہنی طور پر تیار ہو جاتا ہوں کہ کراچی کے نالے اور سڑکیں پھر سے بھر جائیں گی اور آمدورفت شدید متاثر ہوگی۔ ایسے حالات میں دفتر والے نہیں سمجھتے کہ کس طرح آفس پہنچ رہے ہیں۔ اگر ایک دن بھی چھٹی کی جائے تو تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ مانسون کی بارش کا سلسلہ اس وقت پورے ملک میں جاری ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس بارش سے قبل ہی وارننگ جاری کی تھی جس میں واضح کیا تھا کہ سندھ اور اس کے دارالحکومت کراچی کے نشیبی علاقے زیرِ آب آنے اور اربن فلڈ کا خدشہ ہے۔