40 فیصد کمی کرنے بس مالکین کو کارپوریشن کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 7 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : آر ٹی سی بسوں میں سفر کرنے والوں کی تعداد میں کمی کے باعث ہونے والے نقصانات کے پیش نظر تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (TSRTC ) نے ہائر بسیس ( کرائے پر حاصل کئے گئے بسوں ) کے مالکین سے ڈپوز بالخصوص شہر کے ڈپوز میں چلائی جانے والی ان کی بسوں میں 40 فیصد بسوں کو نکال لینے کی ہدایت دی ہے اس کے بعد بس مالکین ان کی بسوں کو تعلیمی اداروں کی بسوں میں تبدیل کرنے کے لیے آر ٹی اے عہدیداروں سے رجوع ہوئے ہیں ۔ ٹی ایس آر ٹی سی کے عہدیداروں کے مطابق آر ٹی سی میں 10,000 سے زائد بسیں ہیں اور تقریبا 3300 بسیں کرایہ پر حاصل کی گئی ہیں ۔ تاہم فی الوقت صرف 2200 بسیں ہی چل رہی ہیں ۔ کارپوریشن نے ہائیر بس آپریٹرس سے ان کی بسوں کو نکال لینے کے لیے کہا ہے کیوں کہ بسوں میں مسافرین کی کم تعداد کی وجہ کوئی آمدنی نہیں ہورہی ہے ۔ مسافرین جب تک کوئی اہم ضرورت نہ ہو بسوں میں سفر نہیں کررہے ہیں ۔ ایسی صورت میں کرایہ پر حاصل کی گئی بسوں کی تعداد میں کمی کرنا بہتر ہوگا تاکہ کارپوریشن کچھ رقم کی بچت کرسکے ۔ ذرائع کے مطابق کارپوریشن کرایہ کی بسوں کے مالکین کو 125 کروڑ روپئے تک کی رقم باقی ہے ۔ معلوم ہوا کہ آر ٹی سی میں کرایہ پر بسوں کو چلانے والے کئی بس مالکین نے ان کی بسوں کو تعلیمی اداروں ( اسکول / کالج ) کی بسوں میں تبدیل کرنے کے لیے روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی ( آر ٹی اے ) آفس اپل اور دوسرے مقامات پر آر ٹی اے دفاتر سے رجوع ہوئے ہیں ۔ آر ٹی اے کے ایک عہدیدار نے کہا کہ بس مالکین بسوں کے استعمال میں تبدیلی کے لیے آر ٹی اے دفاتر میں سمجھا جاتا ہے کہ درخواست داخل کئے ہیں اور حالیہ دنوں میں ان درخواستوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔
ٹریڈ یونین لیڈر اور سابق ڈائرکٹر اے پی ایس آر ٹی سی ، ایم ناگیشور راؤ نے کہا کہ کرایہ پر چلائی جانے والی بسوں کو نکال لینا بہتر ہے ۔ ناگیشور راؤ نے کہا کہ ایک معاہدہ ہوا تھا جو میں نے آر ٹی سی کے منیجنگ ڈائرکٹر وی دنیش کمار کے ساتھ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مینجمنٹ کی جانب سے مرحلہ واری انداز میں ہائر بسیس کو نکالا جائے گا ۔ حالانکہ جس وقت یہ معاہدہ ہوا تھا اس وقت 2100 بسیں کرایہ کی تھیں اب 3300 بسیں ہیں ۔۔