یاتریوں پر خدمات ٹیکس عائد کرنے پاکستانی تجویز سے ہندوستان کا عدم اتفاق
نئی دہلی ۔ 4ستمبر ۔( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور پاکستان نے چہارشنبہ کے بعد ہندوستانی یاتریوں کی گردوارہ دربار صاحب پاکستان تک بغیر ویزا کے کرتارپور راہداری کو استعمال کرتے ہوئے سفر کی اجازت دینے سے اتفاق کرلیا ۔ تاہم دونوں فریقین کی امرتسر کے علاقہ اٹاری کے مقام پر اجلاس کے دوران پاکستان نے زور دیا کہ یاتریوں کو گردوارہ میں حاضری کے لئے ایک خدمات فیس ادا کرنی چاہئے ، لیکن ہندوستان نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا ۔ پاکستان نے یاتریوں کو ہندوستانی قونصل تک رسائی فراہم کرنے کی اجازت دینے سے انکار بھی کردیا ۔ گردوارہ کے احاطہ میں پروٹوکول عہدیداروں نے زور دیاکہ ہندوستان اپنی درخواست پر دوبارہ غور کرے جبکہ ہندوستان کے عہدیداروں کا ادعا تھا کہ جب دونوں فریقین میں بغیر ویزا کے یاتریوں کو گردوارہ دربار صاحب تک شرائط کے بغیر رسائی کی اجازت دیدی ہے تو قونصل تک رسائی کی اجازت کیوں نہیں دی جاسکتی ؟ ہندوستانی نژاد جن افراد کے پاس ہندوستان کی بیرون ملک قیام کے باوجود شہریت حاصل ہو ، گردوارہ پر کرتارپور راہداری استعمال کرتے ہوئے حاضری دے سکتے ہیں ۔ فیصلہ کیا گیا کہ 5,000 یاتری روزانہ گردوارہ پر حاضری دے سکیں گے اور پاکستانی سرزمین پر تمام سہولتیں اُنھیں فراہم کی جائیں گی ۔ نومبر 2018 ء میں ہندوستان اور پاکستان نے سرحد پر ایک نظام قائم کرنے سے اتفاق کیا تھا تاکہ کرتارپور کے گردوارہ دربار صاحب تک سکھ یاتریوں کو حاضری کی اجازت دی جائے ۔ کرتارپور پاکستان کے ضلع ناروال میں واقع ہے جبکہ دریائے راوی کے دوسرے کنارے پر ڈیرہ بابا نائک ہے ۔