کرتویہ پتھ پر ہندوستان کی فوجی طاقت اور ثقافتی وراثت کی جھلک

   

77ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا وان ڈیر لیین کی آمد
نئی دہلی، 26 جنوری (یو این آئی) قومی دارالحکومت نئی دہلی میں 77ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر پیر کے روز تاریخی کرتویہ پتھ پر ہندوستان کی شاندار ثقافتی وراثت، بے پناہ فوجی طاقت اور مسلح افواج کے بہادر جوانوں کی منظم قدم تال کا ایک عظیم اور منفرد منظر دیکھنے کو ملا۔ اس سال کی پریڈ کا موضوع ‘سواتنر کے منتر – وندے ماترم’ اور ‘سمردی کے منتر – آتم نربھر بھارت’ ہے ۔تقریب کا آغاز وزیرِاعظم نریندر مودی کی آمد سے ہوا۔ سب سے پہلے انہوں نے قومی جنگی یادگار پر پہنچ کر ملک کے لیے عظیم قربانی دینے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وزیرِاعظم نے دو منٹ خاموشی اختیار کی، جس کے بعد وہ کرتویہ پتھ پہنچے ، جہاں انہوں نے نائب صدر سی پی رادھا کرشنن، صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو اور بطورِ مہمانِ خصوصی تقریب میں شریک غیر ملکی معززین-یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا وان ڈیر لیین کا استقبال کیا۔یومِ جمہوریہ کے موقع پر پہلی مرتبہ یورپی یونین کے دو اعلیٰ رہنماؤں کو مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ اس سال کی تقریبات ‘وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے ‘ کے موضوع سے منسوب رہیں۔ یومِ جمہوریہ کی پریڈ، ثقافتی پروگرام، جھانکیاں اور دیگر تقاریب اسی موضوع پر مرکوز تھیں۔ اس طرح ہندوستان کا قومی گیت آزادی، ثقافتی اظہار اور موجودہ سیاسی امنگوں کو جوڑتے ہوئے اس سال کی تقریبات کا محور رہا۔پریڈ کے آغاز سے قبل صدرِ جمہوریہ نے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا کو امن کے سب سے بڑے اعزاز اشوک چکر سے نوازا۔اس سال کی پریڈ میں روایتی مارچنگ دستوں اور دفاعی مظاہروں کے ساتھ پہلی بار ہندوستانی فوج کی جنگی حکمتِ عملی (بیٹل فارمیشن) بھی پیش کی گئی۔ پریڈ میں فوجی نظم و ضبط، ثقافتی ورثے اور علاقائی نمائندگی کا حسین امتزاج نظر آیا۔ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جھانکیوں نے ہندوستانی ثقافتی تنوع کو نمایاں کیا۔ ملک بھر کی ریاستی راجدھانیوں، اضلاع، تعلیمی اداروں اور مقامی برادریوں میں پرچم کشائی کی تقاریب، سرکاری پروگرام اور ثقافتی سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔اس سال ‘سوتنر کے منتر – وندے ماترم’ اور ‘سمردی کے منتر – آتم نربھر بھارت’ کے موضوعات پر مبنی ریاستوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں کی مجموعی طور پر 30 جھانکیاں پریڈ میں شامل ہوئیں۔ ثقافتی پروگراموں میں تقریباً 2500 فنکاروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملک بھر سے کسانوں، دستکاروں، سائنس دانوں، اختراع کاروں، خاتون صنعت کاروں، طلبا، کھلاڑیوں، اہم سرکاری اسکیموں کے مستفیدین اور فرنٹ لائن کارکنان سمیت تقریباً 10 ہزار خصوصی مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔یومِ جمہوریہ پریڈ میں اس سال ایک منفرد پہل بھی دیکھنے کو ملی، جس کے تحت پریڈ دیکھنے والوں کے لیے بنائی گئیں گیلریوں کے نام ملک کی مختلف ندیوں کے نام پر رکھے گئے ۔حکومت کے مطابق ندیاں گہری ثقافتی علامتیں ہیں، جو تہذیبوں کی شہ رگ، اجتماعی وراثت اور ثقافتی تنوع کا ذخیرہ سمجھی جاتی ہیں۔
عوام میں اس شعور کو اجاگر کرنے کے لیے اس بار بیاس، برہم پتر، چمبل، چناب، گنڈک، گنگا، گھاگھرا، گوداوری، سندھ، جہلم، کاویری، کوسی، کرشنا، مہانندی، نرمدا، پینار، پیریار، راوی، سون، ستلج، تیستا، ویگئی اور یمنا جیسی ندیوں کے نام پر وزیٹر گیلریوں کے نام رکھے گئے ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل وزیٹر گیلریاں نمبرں (جیسے ایک، دو، تین وغیرہ) سے جانی جاتی تھیں۔
اس سال حکومت نے عوام کو تقریب سے جوڑنے کے لیے متعدد سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ خاص طور پر نوجوانوں اور تخلیقی برادریوں کو شامل کرنے کے لیے ‘مائی گاؤ’ اور ‘مائی بھارت’ جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے قومی سطح کے مقابلے منعقد کیے گئے ، جن میں ‘سوتنتر کے منتر – وندے ماترم’ پر مضمون نویسی، ‘سمردھی کے منتر – آتم نربھر بھارت’ پر پینٹنگ، ‘وندے ماترم’ پر گلوکاری اور خلا، کھیلوں میں ہندوستان کی حصولیابیوں اور قومی ترقیاتی پروگراموں پر کوئز مقابلے شامل تھے ۔ حکومت نے ان مقابلوں میں شرکت کے لیے عوام کو یومِ جمہوریہ 2026 کے لیے مخصوص ‘مائی بھارت’ پورٹل کے ذریعے مدعو کیا تھا۔
پریڈ کے دوران سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے ۔ مختلف مقامات پر سکیورٹی اہلکار تعینات تھے اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے تقریب میں آنے والے ہر فرد کی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھی جا رہی تھی۔