کردار کے غازی بنیں، سازشیں ناکام ہوجائیں گی: عامر علی خان

   

ائمہ و موذنین کی خدمات ناقابل فراموش ، کلمہ کی بنیاد پر اتحاد کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ، میدک میں جلسہ اعتراف خدمات سے خطاب

حیدرآباد : /22 جنور ی (سیاست نیوز)چند مٹھی بھر عناصر فرقہ پرستی کا وائرس پھیلاتے ہوئے سماج میں اسلام اور مسلمانوں کی امیج کو داغدار بنارہے ہیں ، ہمیں کردار کے غازی بن کر اپنے حسن سلوک اور کردار کے ذریعہ جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان نے مستقر میدک کے اعظم پورہ میناریٹی فنکشن ہال میں منعقدہ جلسہ اعتراف خدمات پر ائمہ و موذنین سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ قرآن مجید ساری انسانیت کی کتاب ہے ۔ ہمیں سنت کی پیروی کرتے ہوئے زندگی گزارنا ہے ۔ ائمہ موذنین کی خدمات ناقابل فراموش ہے ۔ جمعہ کے خطبہ میں اسلامی تعلیمات کے ساتھ معاشرے کی برائیوں پر روشنی ڈالنا وقت کا تقاضا بن گیا ہے ۔ ہمیں مسلک کے جھگڑوں سے بلند ہوکر کلمہ کی بنیاد پر متحد ہوکر ہمارے نسلوں کے روشن مستقبل کیلئے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ شمالی ہند میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ ہوتا جارہا ہے ۔ پھر بھی تلنگانہ میں مسلمانوں کی حیثیت ہے ۔ جہاں فرقہ پرستی کا اتنا زہر نہیں ہے جو شمالی ہند میں پایا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کرنے کیلئے بی جے پی مختلف سازشیں کررہی ہیں ۔ ہمیں مسلکوں کے مسائل میں الجھایا جارہا ہے ۔ اب پسماندہ مسلمان قرار دیتے ہوئے امیروں اور غریبوں میں مزید دوریاں پیدا کی جارہی ہیں ۔ ہمیں زکواۃ کا صحیح استعمال کرنا چاہئیے ۔ سماجی ذمہ داریوں کو بھی بخوبی نبھانا چاہئیے ۔ آئے دن طلاق اور خلع کی شرح میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔ اس پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ سیل فون اور انٹرنیٹ کاغلط استعمال ہو رہا ہے جو ہماری اخلاقی گراوٹوںکا اصل ذمہ دار ہے ۔ سیل فون اور انٹرنیٹ کا بہتر استعمال کرتے ہوئے بھی زندگیوں میں انقلابی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا بھرپور استعال کیا جارہا ہے ۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جھوٹ پھیلایا جارہا ہے ۔ ایوانوں میں مسلمانوں کی معمولی نمائندگی ہے ۔ وہ بھی آہستہ آہستہ گھٹتی جارہی ہے ۔ حکومتوں تک ہمارے مسائل کو پہونچانے کیلئے مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہونا چاہئیے ۔ اقلیتی بجٹ 1200 کروڑ روپئے ہے ۔ مگر منظورہ بجٹ کبھی مسلمانوں پر خرچ نہیں ہوتا ۔ دلتوں کو دلت بندھو اسکیم کے تحت فی کس 10 لاکھ روپئے دیئے جارہے ہیں ۔ مگر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ صرف مسلمانوں کو ایک لاکھ روپئے بھی قرض دیا جاتا ہے تو مسلمانوں چھوٹے روزگار شروع کرسکتے ہیں ۔ حکومت نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ مگر اس کو پورا نہیں کیا گیا ۔ اگر 12 فیصد تحفظات مل جائے تو ریاست میں ایک لاکھ جائیدادوں پر تقررات کئے جارہے ہیں جس میں 12 ہزار ملازمتین مسلمانوں کو دستیاب ہوتی تھی ، آزادی کے وقت سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا 42 فیصد حصہ تھا جو اب گھٹ کر 2 فیصد رہ گیا ہے ۔ 40 فیصد مسلمان روزگار سے محروم ہوگئے ہیں ، استاد حدیث ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد مفتی عبدالعزیز لحجی نے امام کو دراصل رسول کا نائب قرار دیا اور کہا کہ نائب کا وہ کام ہوتا ہے جو اصل کام ہوتا ہے ۔ ائمہ و موذنین کی خدمات کا اعتراف تاریخی کام ہے ۔ امامت کا بہت بڑا مقام ہے اور موذن کی گردن قیامت کے دن سب سے اونچی ہوتی ہے ۔ ائمہ موذنین کی خدمات الٰہی ملازمت ہے ، جس کو کبھی چھٹی نہیں ملتی ۔ جبکہ دوسرے کام کرنے والوں کو ضرور چھٹی ملتی ہے ۔ پھر بھی ہم ان کی عزت نہیں کرتے ۔ انہیں زر خریدوں کی نظر سے دیکھا جارہا ہے ۔ قیامت میں اس کی ضرور پوچھ ہوگی ۔ مفتی عبدالعزیز لحجی نے بتایا کہ نوجوان نسل اسلام سے دوری اختیار کررہی ہے ۔ دین سے دوری اختیار کرنے کے باعث وہ وضو اور غسل کے فرائض سے بھی واقف نہیں ہے ۔ ہر مسجد میں منظم مکتب قائم کرتے ہوئے نوجوان نسل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ وہ بے دین ہوجائے گی ۔ نئی نسل دنیاوی تعلیم سے آراستہ ہورہی ہے ۔ مگر عقائد کے اعتبار سے ناپاک ہورہی ہے ۔ مولانا محمد جاوید علی حسامی صدر میدک مسلم ویلفیر سوسائیٹی وہ ناظم مدرسہ مدینۃ العلوم میدک نے خیرمقدمی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئمہ و مودنین اللہ کی خدمات میں مصروف ہیں ۔ مساجد کی فکر رکھنے والوں کو متحد کیا گیا ہے ۔ پہلی کوشش کامیاب رہی ہے ۔ امامت کا دنیا میں سب سے اونچا مقام ہے اس پر ہم کو فخر کرنے کی ضرورت ہے ۔ حافظ محمد فصیح الدین نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ محمد عمر فاروق نے اظہار تشکر کیا ۔ اس تقریب میں عارف امجد نمائندہ کونسلر ، ڈاکٹر صوفی ، محمد سمیع الدین کونسلر، مجیب الدین ، زبیر مہتاب ، عبدالمعید ماجد ، جلیل عارف صمدانی ، میر عابد علی ندوی اور دوسروں نے شرکت کی ۔ ن