انقرہ ۔ 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ہنگامہ آرائی کی کارروائیوں کے پیچھے جن افراد کا ہاتھ ہے ، ان کے شمالی شام میں کرد یونٹوں کے ساتھ روابط ہیں۔ اردغان نے یہ بات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران کہی۔پیر کے روز ترک ایوان صدارت سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اردغان نے بات چیت میں ٹرمپ کے سامنے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ امریکہ میں تشدد اور لوٹ مار کی کارروائیوں کے ذمہ دار عناصر کا شمالی شام میں کردستان ورکرز پارٹی کے زیر انتظام کر پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے ساتھ تعلق ہے۔ اردغان نے مذکورہ جماعت کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ اردغان اور ٹرمپ نے دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ان میں لیبیا کا بحران شامل ہے۔یاد رہے کہ ترکی اور امریکہ ’’کردستان ورکرز‘‘ پارٹی کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ دے چکے ہیں۔انقرہ حکومت شام میں ’’کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس‘‘ کو ’’کردستان ورکرز پارٹی‘‘ کا ونگ قرار دیتی ہے۔ مذکورہ یونٹس ’’سیرین ڈیموکریٹک فورسز‘‘ (ایس ڈی ایف) کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ایس ڈی ایف شام میں واشنگٹن کے نمایاں ترین حلیفوں میں سے ہے اور اسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔امریکہ میں دو ہفتوں سے شدید عوامی احتجاج دیکھا جا رہا ہے۔