کرسمس کورونا خو ف کے سائے میں منایا گیا

   

پیرس:کرفیو، قرنطینہ، اور بین الاقوامی سرحدوں پر پابندیوں کی سی صورت حال میں جمعہ کے روز دنیا بھر میں کروڑوں افراد نے اپنا کرسمس کا تہوار منایا اور ان کی ہمت اور عزم نے کرونا کی مہلک عالمی وبا کے باوجود اس دن کو خاص بنانے میں مدد دی۔جنوبی افریقہ میں، جہاں کورونا وائرس کے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، ٹیولو ڈی اولیویریا نیاپنی لیبارٹری میں وائرس کی جینیاتی سیکوئینسنگ کرتے ہوئے کرسمس کا دن گزار۔ وہ اس ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں جس نے جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس کو دریافت کیا ہے۔جنوبی افریقہ کے ماہرین کا خیال ہے کہ وبا کی انتہا ابھی آنا باقی ہے۔ اس خطرے سے محفوظ رہنے کے لیے حکام نے جہاں بہت سی پابندیاں نافد کی ہیں وہاں ملک کے کئی ان تفریحی ساحلوں کو بھی بند کر دیا ہے جہاں عام طور پر سیاحوں کا ہجوم ہوتا ہے۔مسیحوں کے رہنما پوپ فرانسس نے کرسمس کے موقع پر ویٹیکن سے دنیا بھر کیلئے خطاب کیا۔ انہوں نے روایتی طور پر ویٹیکن میں سینٹ پیٹرز باسلیکا کی بالکونی سے ہزاروں افراد کے مجمع سے خطاب کرنے کی بجائے اس دفعہ آن لائن خطاب کیا۔کرونا وائرس کی وجہ سے اٹلی میں سیاحت بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے اور وہ مقامات جہاں چھٹیوں کے دنوں میں غیر ملکی سیاحوں کے ہجوم ہوا کرتے تھے، پابندیوں کی وجہ سے ویرانی کا منظر پیش کررہے تھے ۔