مرکزی وزیر آبی وسائل کو چیف منسٹر اے پی جگن موہن ریڈی کا مکتوب
حیدرآباد۔/15 اگسٹ، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کے چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے گوداوری اور کرشنا ندیوں کو مربوط کرنے کی مجوزہ اسکیم کیلئے مرکز سے مدد طلب کی ہے تاکہ ریاست میں آبپاشی اور پینے کے مقصد کیلئے پانی فراہم کیا جاسکے اور پسماندہ اور خشک سالی کے اضلاع میں صنعت کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے، مرکزی وزیر آبی وسائل گجیندر سنگھ سیخاوت کو کل ایک مکتوب میں چیف منسٹر آندھرا پردیش نے اس اسکیم کیلئے درکار فنڈس فراہم کرنے پر زور دیا۔ جگن موہن ریڈی نے کہا کہ گوداوری کے تقریباً 480 ٹی ایم سی پانی کوکرشنا ندی میں شامل کرنے کی تجویز ہے ۔ روزانہ گوداوری سے 4 ٹی ایم سی کی شرح سے پانی کو 120 دن تک سری سیلم اور ناگرجنا ساگر میں موڑنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے مکتوب میں کہا کہ گوداوری کے پانی کو سری سیلم اور ناگرجناذخائر آب میں موڑنے کی اس مجوزہ اسکیم کو آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے درمیان مناسب معاہدوں کے ذریعہ شروع کیا جاسکتا ہے جس میں دونوں ریاستوں کے باہمی مفادات کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ انہوں نے مرکزی وزیر کو بتایا کہ دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس اور عہدیداروں نے اس اسکیم پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ جس سے رائلسیما کے اضلاع اور اضلاع پرکاشم اور نیلور کو بھی فائدہ ہوگا۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش میں گنٹور، کرشنا اور مغربی گوداوری اور تلنگانہ میں اضلاع محبوب نگر، نلگنڈہ ، کھمم اور جزوی رنگاریڈی میں اس سے فائدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ گوداوری ندی سے ذخائر آب سری سیلم اور ناگر جنا ساگر میں پانی کے بہاؤ کیلئے پانی کے رُخ میں تبدیلی کیلئے مختلف متبادل راہوں کو تلاش کرنے کیلئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
