کرشنا اور گوداوری کے آبپاشی پراجکٹس پر جمعرات سے مرکز کا کنٹرول

   

تلگو ریاستوں کے اعتراضات نظرانداز، کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ اجلاس میں اہم فیصلے
حیدرآباد۔/12 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کرشنا اور گوداوری دریاؤں پر موجود آبپاشی پراجکٹس پر مرکز کے کنٹرول سے متعلق نوٹیفکیشن پر عمل آوری یقینی دکھائی دے رہی ہے۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش حکومتوں کے اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے 14 اکٹوبر سے نوٹیفکیشن پر عمل آوری کا فیصلہ کیا گیا۔ کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ نے آج اپنے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا۔ نوٹیفکیشن پر عمل آوری کے بعد سے آبپاشی پراجکٹس کے تمام تر انتظامات کی نگرانی مینجمنٹ بورڈ کی ہوگی۔ سری سیلم اور ناگرجنا ساگر میں برقی کی تیاری سے متعلق پلانٹس بھی مینجمنٹ بورڈ کے کنٹرول میں ہوں گے۔ تلنگانہ میں برقی پلانٹس پر کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کے کنٹرول کی مخالفت کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے مرحلہ میں 5 پراجکٹس کے تحت 29 مراکز کا کنٹرول حاصل کیا جائے گا۔ ایسے پراجکٹس جن کے بارے میں دونوں ریاستوں کو بعض اعتراضات ہیں ان پر قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بورڈ نے ہر پراجکٹ اور اس کی کارکردگی سے متعلق علحدہ رپورٹس تیار کی ہے۔ مرکز کے نوٹیفکیشن کے مطابق کرشنا اور گوداوری کے تمام پراجکٹس کرشنا اور گوداوری مینجمنٹ بورڈس کی نگرانی میں رہیں گے۔ حال ہی میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر جل شکتی گجیندر سنگھ شیخاوت سے ملاقات کرتے ہوئے گزٹ پر عمل آوری ملتوی کرنے کی اپیل کی تھی لیکن آج مینجمنٹ بورڈ کے اجلاس میں 14 اکٹوبر سے عمل آوری کا اعلان کیا گیا۔ تلنگانہ حکومت کی نمائندگی اسپیشل چیف سکریٹری آبپاشی رجت کمار نے کی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستوں کو برقی کی تیاری کے اختیارات دیئے جانے کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 14 اکٹوبر کو کنٹرول سے متعلق اُمور کی وضاحت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اس سلسلہ میں قانونی رائے حاصل کررہی ہے۔ ناگرجنا ساگر پر 18 اور سری سیلم پر 12 سنٹرس کے کنٹرول کے سلسلہ میں دونوں تلگو ریاستوں نے اپنے اعتراضات درج کرائے۔ کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کے صدرنشین ایم پی سنگھ نے اجلاس کی صدارت کی جس میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے آبپاشی عہدیداروں نے حصہ لیا۔ تلنگانہ حکومت نے دریائے کرشنا میں پانی کی سربراہی میں 50 فیصد حصہ داری کا مطالبہ کیا ہے۔ر