پارٹی میں شمولیت کیلئے جی کشن ریڈی دستیاب نہیں ، دن بھر ڈرامائی مناظر
حیدرآباد ۔ 13 ستمبر (سیاست نیوز) سابق وزیر کرشنا یادو کے بعد آج کسینو کنگ چکوٹی پراوین کی بی جے پی میں شمولیت پر روک لگ گئی ۔ ان کے پارٹی آفس پہنچنے پر مرکزی وزیر و تلنگانہ بی جے پی صدر جی کشن ریڈی دستیاب نہ رہے جس پر وہ مایوس ہوکر حامیوں کے ساتھ واپس لوٹ گئے۔ ایک ہفتہ میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس سے بی جے پی میں اختلافات اور گروپ بندیاں پھر منظرعام پر آگئیں۔ ایک ہفتہ قبل سابق وزیر کرشنا یادو بی جے پی میں شامل ہونے والے تھے۔ انہیں پارٹی میں شامل ہونے رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر نے راضی کرایا تھا جس پر وہ بی آر ایس سے مستعفی ہوگئے تھے مگر اس دن کشن ریڈی نے مہاراشٹرا کے سابق گورنر ودیا ساگر راؤ کو پارٹی میں شامل کیا لیکن اسٹامپ پیپر اسکام میں جیل گئے کرشنا یادو کو پارٹی میں شامل ہونے اجازت نہیں دی۔ تمام تیاری کرنے والے کرشنا یادو مایوس ہوگئے۔ کسینو میں پکڑے جانے ‘ ای ڈی تحقیقات کا سامنا کرنے وا لے چکوٹی پراوین نے چند دن قبل دہلی میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ بنڈی سنجے کے ساتھ سینئر قائدین سے ملاقات کرکے بی جے پی میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا ایک ہفتہ قبل بھی اپنے فیصلے کو دہرایا تھا آج وہ بی جے پی میں شامل ہونے کرمن گھاٹ سے اپنے مداحوں کے ساتھ ریالی میں نامپلی آفس پہنچے ان کے حامیوں نے آتشبازی کی اور شورشرابہ کیا لیکن بی جے پی آفس پہنچتے ہی چکوٹی پراوین کو بڑا جھٹکا لگا۔ انہیں بتایا گیا کہ کشن ر یڈی یا دیگر قائدین دستیاب نہیں ہے۔ یہ بات سن کر چکوٹی پرواین مایوس ہوکر واپس ہوگئے۔ انہوںنے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم مودی سے متاثر ہوکر بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں تال میل کے فقدان کی وجہ سے وہ آج بی جے پی میں شامل نہیں ہوسکے۔ قومی قائدین سے تبادلہ خیال کے بعد وہ مستقبل کی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ن