کرغزستان میں فوری طور پر تشدد بند ہو : اٹلی

   

روم : اٹلی نے کہا ہے کہ کرغزستان میں جلد ہی تشدد ختم کرکے سیاسی مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جانا چاہیے ۔اٹلی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ‘‘اٹلی کرغزستان میں گزشتہ اتوار کو ہوئے عام انتخابات کے بعد سے پیدا شدہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہاں تشدد فوری طور پر بند ہو اور ووٹنگ منسوخ ہونے کے بعد شروع ہوئے تخلیقی عبوری سیاسی مذاکرات بحال ہونے چاہئے ’’۔بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ موجودہ حالات کرغزستان کے جمہوری نظام میں رخنہ پیدا نہیں کریں گے ۔5 اکتوبر کو ہوئے پارلیمانی انتخابات کے نتائج سے غیر مطمئن اپوزیشن جماعتوں کے حامیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین تصادم ہوا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں سیکیورٹی فورسز نے روک لیا۔ اس کے بعد مظاہرین نے پارلیمنٹ ہاؤس کا محاصرہ کرکے اسے اپنے کنٹرول لے لیا۔ اس دوران نو سو سے زیادہ افراد زخمی اور ایک شخص ہلاک ہوا۔وزیر اعظم کبت بیک بورونوف نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ، جس کے بعد صدر سرون بے جین بیکوف نے ملک کی کمان سنبھالی۔ مسٹر جین بیکوف نے متعدد بار اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت کے لئے میز پر آنے کی اپیل کی لیکن ابھی تک اس مسئلے پر باضابطہ طور پر اتفاق نہیں ہوا ہے ۔حزب اختلاف کی جماعتوں نے ملک کو چلانے کے لئے ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دی اور جیل سے رہا ہوئے سادری زپروف کو عبوری وزیر اعظم نامزد کیا۔ 6 اکتوبر کو پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے زپروف کی امیدواری پر مہر ثبت کردی گئی۔ اس دوران کچھ اپوزیشن جماعتوں نے اس پر اتفاق نہیں کیا اور اپنی رابطہ کمیٹی تشکیل دی اور اپنے وزیر اعظم کے انتخاب کا اعلان کیا۔