قومی سیاسی پارٹی کے منصوبہ کے ساتھ پارٹی کی حکمت عملی، چیف منسٹر کے سی آر کے فیصلہ کا علاقائی پارٹیوں سے خیرمقدم
حیدرآباد۔11۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی کرناٹک‘ گجرات اور ہماچل پردیش انتخابات میں حصہ لے گی! چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے قومی سیاسی جماعت کی منصوبہ بندی کے ساتھ گجرات اور کرناٹک کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کی حکمت عملی کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ کرناٹک کے دکن کے علاقوں میں ٹی آر ایس اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کے متعلق غور کر رہی ہے اور گجرات کے علاقوں احمد آباد‘ سورت‘ کے علاوہ دیگر علاقوں میں جہاں تاجرین پارچہ اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بنکروں کی بڑی تعداد موجودہے ان علاقوں میں بسے ہوئے تلنگانہ عوام کے ووٹوں کے حصول کے علاوہ کوشش کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ راشٹر سمیتی قومی سیاسی جماعت کے موقف کے حصول کے لئے آئندہ عام انتخابات سے قبل منعقد ہونے والی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں ووٹ کے حصول کے لئے کوشش کررہی ہے اور کرناٹک میں بیدر‘ رائچور‘ کلبرگی کے علاقوں کے علاوہ بنگلورو میں موجود انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں خدمات انجام دینے والے تلنگانہ ملازمین تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سابق ریاست دکن حیدرآباد کے اضلاع میں تلگو عوام کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تلنگانہ راشٹر سمیتی نہ صرف کرناٹک بلکہ ریاست مہاراشٹر کے علاوہ آندھراپردیش میں بھی اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کررہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق سربراہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے ملک میں قومی سیاسی متبادل کے طور پر اپنی شناخت بنانے کے لئے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق پارٹی قومی سطح پر ایک ہی انتخابی نشان کے حصول کے لئے کوشش کر رہی ہے تاکہ قومی موقف حاصل ہوسکے اور قومی موقف کے حصول کے ساتھ پارٹی اپنی سیاسی حکمت عملی کو قابل عمل بنا سکے۔کے چندر شیکھر راؤ کی سیاسی حکمت عملی کے سلسلہ میں ماہرین کا کہناہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کو بھارتیہ راشٹر سمیتی میں تبدیل کرنے کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کے سی آر نے جو حکمت عملی تیار کی ہے وہ آئندہ عام انتخابات میں کارکرد ثابت ہوسکتی ہے لیکن گجرات اور کرناٹک انتخابات میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے حصہ لینے کے فیصلہ سے کس کا فائدہ ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کیونکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی فرقہ پرستی کے خلاف سیکولر سیاسی متبادل کے طور پر اگر خود کو پیش کرتی ہے تو ایسی صورت میں سیکولر ووٹ ہی منقسم ہوں گے جو کہ سیکولر سیاسی جماعتوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ تلنگانہ راشٹرسمیتی کے ذرائع کا کہناہے کہ پارٹی سیکولر قوتوں کو کمزور کرنے کے لئے نہیں بلکہ علاقائی سیکولر جماعتوں کو مستحکم کرنے کے منصوبہ پر عمل آوری کے ذریعہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں قدم رکھنے کی منصوبہ بندی کی ہے اور چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ جو کہ شمالی ہند میں استعمال کی جانے والی ہندی زبانو ں اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ہندی زبان میں بات کرتے ہیں تو انہیں عوام سے راست رابطہ میں کسی بھی طرح کی دشواریوں کا سامنا نہیں ہوگا۔