اک اشارہ ہے یہ تعمیر نشیمن کیلئے
برق خود میرے مقابل کبھی ایسی تو نہ تھی
کرناٹک ‘ آپریشن کمل تکمیل کے قریب
ملک میں لوک سبھا انتخابات میںشاندار کامیابی کے بعد بی جے پی ایسا لگتا ہے کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں کسی بھی غیر بی جے پی جماعت کو اقتدار پر فائز دیکھنا نہیںچاہتی ۔ اس صورتحال میں سب سے پہلے کرناٹک کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہاںجے ڈی ایس ۔ کانگریس حکومت کو زوال کا شکار کیا جا رہا ہے ۔ ریاست میں مخلوط حکومت کو معمولی اکثریت حاصل تھی ۔ جہاںاس اتحاد کو داخلی اختلافات کا مسئلہ درپیش تھا وہیں بی جے پی کی سازشوں نے ماحول کو مزید الجھن آمیز اور بحران والا بنادیا ہے ۔ اس صورتحال میں کمارا سوامی حکومت کا زوال تقریبا یقینی نظر آنے لگا ہے ۔ شائد ہی کوئی کرشمہ ہو جو کمارا سوامی حکومت کو بچاسکتا ہے۔ جس وقت لوک سبھاانتخابات کے نتائج سامنے آئے تھے اسی وقت سے صورتحال کے تعلق سے اندازے لگنے شروع ہوگئے تھے ۔ کرناٹک کے علاوہ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھی بی جے پی کانگریس کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے منصوبے بنانے شروع کرچکی تھی اور آسان شکار کے طور پر کمارا سوامی حکومت کو پہلے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ پہلے تو یہ الزامات عام ہوگئے تھے کہ بی جے پی کی جانب سے کانگریس ۔ جے ڈی ایس ارکان کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ان کی تائید حاصل کرتے ہوئے ریاست میں بی جے پی حکومت قائم کی جاسکے ۔ تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی نے حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے اورایوان کی عملی عددی طاقت کو کم کرتے ہوئے اپنے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ 224 رکنی کرناٹک اسمبلی میںکانگریس ۔ جے ڈی ایس کو 118 ارکان کی تائید حاصل تھی ۔ پہلے دو ارکان اسمبلی مستعفی ہوگئے ۔ اب مزید 11 ارکان نے استعفی پیش کردیا ہے ۔ اسطرح جے ڈی ایس ۔ کانگریس دونوں کو 105 ارکان کی تائید حاصل ہے ۔ حکومت کی صفوں سے اسپیکر کو علیحدہ کردیاجائے تو وہ مزید ایک رکن کی کمی کا شکار ہوگی ۔ اگر مستعفی ارکان کے استعفوں کو قبول کرلیا جائے تو ایوان کی عددی طاقت گھٹ کر 211 رہ جائیگی ۔ مزید دو ارکان کو اگر استعفوں کیلئے تیار کرلیا جائے تو پھر بی جے پی کوسادہ اکثریت ایوان میںحاصل ہوجائیگی ۔
ملک کے موجودہ ماحول میں بی جے پی شائد یہ نہیںچاہتی کہ اس پر دوسری جماعتوں میں انحراف کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام عائد کیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کانگریس ۔ جے ڈی ایس ارکان کو راست پارٹی میں شامل کرنے کی بجائے انہیں اس تیقن کے ساتھ مستعفی کروا رہی ہے کہ انہیںدوبارہ بی جے پی سے ٹکٹ دے کر کامیابی دلائی جائے گی ۔ جب ان میںسے نصف ارکان بھی بی جے پی ٹکٹ پر منتخب ہوجاتے ہیں تو بی جے پی کو ایوان میںاکثریت حاصل ہوجائیگی ۔ یہ بی جے پی کا آپریشن کمل ہی ہے جس کے تحت دیگر جماعتوں کے ارکان کو پارٹی کی صفوں میںشامل کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی ۔ اس صورتحال کو ملک کی جمہوریت کیلئے خطرناک کہا جاسکتا ہے کیونکہ عوام کی جانب سے ایک رائے دئے جانے کے بعد اس میں توڑ مروڑ کرنے کے نت نئے طریقے بی جے پی کی جانب سے ایجاد کئے جار ہے ہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو ملک میںنہ صرف کانگریس اور جے ڈی ایس بلکہ دوسری تمام غیر بی جے پی جماعتوں کیلئے خطرناک کہی جاسکتی ہے ۔ بی جے پی کانگریس مکت بھارت کے نعرہ کے ساتھ سرگرم ہوئی تھی اورایسا لگتا ہے کہ وہ اپوزیشن مکت بھارت کے مقصد کے تحت کام کر رہی ہے ۔ جب وہ کانگریس اوراس کی حلیفوں سے نمٹ لے گی تو اختلافی مسائل کو ہوا دیتے ہوئے وہ خود اپنی حلیف جماعتوں سے بھی پیچھا چھڑانے سے گریز نہیںکرے گی ۔
کرناٹک میں حکومت کی کارکردگی سے نارضگی کا اظہار کرتے ہوئے ارکان اسمبلی استعفے پیش کرر ہے ہیں۔ یہ حالانکہ بظاہر کوئی غلط روایت نہیں ہے لیکن یہ راز سب پر عیاں ہے کہ اس کے پس پردہ بی جے پی ہی کارفرما ہے اور یہی بات ملک کی جمہوریت سے کھلواڑ کے مترادف ہے ۔ اب حالانکہ بی جے پی ان استعفوں میں اپنے کسی رول سے انکار کر رہی ہے لیکن ہفتہ کو ہی جب ارکان اسمبلی نے استعفے پیش کئے تھے مرکزی وزیر ڈی وی سدانند گوڑا نے اعلان کردیا تھا کہ بی جے پی ریاست میںحکومت سازی کیلئے تیار ہے ۔ بی جے پی کا یہ اعلان ہی ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی کرناٹک میںاقتدار پر قبضہ جمانے کس قدر بے چین ہے ۔ آپریشن کمل کرناٹک میںتکمیل کے قریب ہے اور اب دوسری ریاستوں کی بھی خیر نظر نہیںآتی ۔
