راج ناتھ سنگھ کی صفائی نظرانداز، مرکزی حکومت پر سازش کا الزام
نئی دہلی۔8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا کو دوشنبہ کو بتایا کہ مرکز میں بی جے پی کی قیادت میں قائم حکومت کا تعلق کرناٹک میں جاری بحران سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس نے کسی بھی رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ پر اپنی سیاسی وفاداری بدلنے پر دبائو ڈالا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ حکومت پارلیمنٹ کے تقدس کو برقرار رکھنے کی پابند ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری نے پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا اس کے جواب میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کرناٹک میں جو کچھ اب ہورہا ہے، ہمارا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ چودھری نے بی جے پی کی مرکزی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ مرکزی حکومت کرناٹک اور مدھیہ پردیش کی حکومتوں کو توڑنے کے لیے سازش رچارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہمارے ارکان اسمبلی کو ممبئی 5 اسٹار ہوٹل میں رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جونہی باغی ارکان اسمبلی نے گورنر سے ملاقات کی ان کے لیے موٹر گاڑیاں، ہوائی جہاز اور ہوٹل کی سہولتیں تیار رکھی گئپیں۔ اپنی بات میں مزید زور پیدا کرنے کے لیے اگر کسی شخص کے پاس 10 چاندی اور سونے کی اشرفیاں ہیں مگر ان کی حفاظت کا انتظام نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ کوئی بھی باہر کا آدمی انہیں چراکر لے جائے۔ کانگریس اور جنتادل (ایس) کے 73 ارکان کے اسپیکر کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بعد کانگریس۔جنتادل (ایس) اتحاد بحران میں ڈوب گیا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ استعفیٰ دینے کی تحریک کا سلسلہ کانگریس کے قائد راہول گاندھی نے خود شروع کیا تھا۔ کانگریس کے بڑے بڑے لیڈر استعفیٰ دے رہے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ کے جواب کے فوری بعد کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے شور مچانا شروع کردیا اور پلے کارڈ بتانے لگے جن پر لکھا تھا ’’جمہوریت کو بچائیے‘‘۔ مذکورہ ارکان لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کی درخواست پر کوئی دھیان نہیں دیا اور خاموش نہیں ہوئے۔ اسپیکر نے دوپہر کے کھانے تک ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردیا۔