بنگلورو، 22 جنوری (یو این آئی) کرناٹک اسمبلی میں جمعرات کے روز منریگا پر طلب کیے گئے خصوصی اجلاس کے دوران گورنر تھاورچند گہلوت نے اپنے خطاب کی محض دو سطریں پڑھیں اور اس کے بعد ایوان سے باہر نکل گئے ۔ ایوان سے باہر جاتے وقت کانگریس رہنما بی۔کے ۔ ہری پرساد نے گورنر کو روکنے کی کوشش بھی کی لیکن مسٹر گہلوت نے منریگا اسکیم میں تبدیلی سے متعلق کچھ مخصوص پیراگراف پر اعتراض کرتے ہوئے اسے حکومت کی ‘تشہیر’ قرار دیا اور آگے پڑھنے سے انکار کر دیا۔ گورنر کے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر پریانک کھڑگے نے سوال اٹھایا کہ آئین کے آرٹیکل 176 اور 163 کی خلاف ورزی کون کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کے خطاب میں صرف حقائق بیان کیے گئے تھے اور اس میں ایک لفظ بھی جھوٹ نہیں تھا، اس کے باوجود گورنر اسے پڑھنا نہیں چاہتے ہیں۔ کھڑگے نے طنزیہ انداز میں پوچھا کہ کیا گورنر کا دفتر بی جے پی کا دفتر بن چکا ہے ؟ دوسری جانب اسمبلی اسپیکر یو۔ٹی۔ کھادر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ آئینی اداروں کو ایک دوسرے کا احترام اور تعاون کرنا چاہیے اور گورنر و حکومت مل کر کام کریں گے ۔