مسلم متحدہ محاذ اور ویلفیر پارٹی سرگرم، بی جے پی کو شکست دینے کے اہل امیدواروں کی تائیدکا فیصلہ
حیدرآباد۔28۔اپریل (سیاست نیوز) کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے سلسلہ میں مسلم جماعتوں اور تنظیموں نے اپنی حکمت عملی کو قطعیت دینے کیلئے وسیع تر مشاورت کا عمل شروع کردیا ہے۔ کرناٹک مسلم متحدہ محاذ اور ویلفیر پارٹی آف انڈیا نے سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو روکنے کیلئے منصوبہ بندی کی ہے ۔ ان تنظیموں نے مسلم اکثریتی حلقہ جات میں زائد مسلم امیدواروں کے مقابلہ کو روکنے کی تیاری کرلی ہے تاکہ ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ نہ پہنچ سکے۔ کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے کنوینر مسعود عبدالقادر کا کہنا ہے کہ عنقریب محاذ کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں انتخابی حکمت عملی طئے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو روکتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے روکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 مئی کے چناؤ میں کسی ایک سیکولر پارٹی یا ایک سے زائد سیکولر پارٹیوں کے امیدواروں کی تائید کا فیصلہ اجلاس میں کیا جائے گا ۔ ایسے سیکولر امیدوار کی تائید کی جائے گی جو فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کے موقف میں ہو۔ کنوینر مسلم متحدہ محاذ نے کہا کہ کرناٹک میں ترقی اور امن و امان کو یقینی بنانے والی حکومت کی ضرورت ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے لئے غیر ضروری اور اشتعال انگیز مسائل سے گریز کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم رائے دہندوں کو اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کرنا چاہئے ۔ رائے دہی سے غفلت نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے اور ناپسندیدہ افراد منتخب ہوجائیں گے ۔ انہوں نے مسلم خواتین سے اپیل کی کہ وہ رائے دہی کے لئے گھروں سے نکلے۔ رضاکارانہ تنظیموں اور جہد کاروں کو شعور بیداری کا کام انجام دینا ہوگا۔ کنوینر مسلم متحدہ محاذ نے کہا کہ ریاست میں بہتر حکومت کا انتخاب مذہبی فریضہ میں شامل ہے۔ اسی دوران ویلفیر پارٹی آف انڈیا کرناٹک کے صدر طاہر حسین ایڈوکیٹ نے کہا کہ بی جے پی کو شکست دینے کیلئے پارٹی صرف دو حلقوں سے مقابلہ کرے گی ۔ فرقہ پرست اور بدعنوان بی جے پی حکومت کو شکست دینا بنیادی مقصد ہے ۔ مسلم تنظیموں سے مشاورت کے بعد ویلفیر پارٹی نے صرف دو حلقوں سے مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے جبکہ 222 اسمبلی حلقوں میں ایسے امیدواروں کی تائید کی جائے گی جو بی جے پی کو شکست دینے کی طاقت رکھتے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کو روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فسطائی طاقتوں کو شکست دیتے ہوئے کرناٹک میں امن و امان اور خوشحالی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ طاہر حسین کا کہنا ہے کہ نہ صرف مسلمان بلکہ دلت ، کرسچین اور او بی سی طبقات بھی فرقہ پرست طاقتوں کی سرگرمیوں سے متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر پارٹیوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ اقلیتوں کو فراموش کرتے ہوئے کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔ ر