بنگلور : کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومئی نے کہا ہے کہ انور منیپدی اور ڈپٹی لوک آیکت کی رپورٹ میں وقف املاک کے غلط استعمال کے بارے میں بتایا گیا ہے ، اس لیے ان معاملوں کی تحقیقات کرائی جائے گی۔وزیر اعلی نے چہارشنبہ کے روز اسمبلی اجلاس کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان بسنا گوڑا پاٹل، یتنال، رگھوپتی بھٹ اور سنجیو ماتندورو کی طرف سے پیش کی گئی توجہ دلانے کی تحریک کے جواب میں کہا کہ “وقف کے مسئلہ پر بحث کرنے کی ضرورت ہے ۔ وقف کے اپنے اصول و ضوابط ہیں۔ ان کی خلاف ورزی کرکے اوقات کا غلط استعمال کیا گیا ہے ۔ منیپدی کی رپورٹ کی جانچ کی جائے گی اور ہم وقف املاک کے غلط استعمال سے متعلق ڈپٹی لوک آیکت کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیں گے ۔ چیف منسٹر نے یہ بات بی جے پی ایم ایل اے کے ذریعہ پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی کہ منیپدی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ریاستی حکومت کیا کارروائی کرے گی۔مسٹر بومئی نے کانگریس کو متنبہ کیا، “جب حکمراں بی جے پی کے ارکان وقف بورڈ کی طرف سے حکومت کے خلاف لگائے گئے بے بنیاد الزامات میں سے 40 فیصد پر بحث کرنے کے لیے تیار ہوسکتے ہیں، تو پھر ایک بڑے گھوٹالے پر کیوں بحث نہیں کی جا سکتی ہے جس میں دو لاکھ سے زیادہ سرکاری جائیدادوں کو ہتھیا لیا گیا ہے ۔ اس سے بڑا گھوٹالہ کیا ہے ؟ انتظار کریں، اس کیس میں کس کا نام سامنے آنے والا ہے ۔ وقف وزیر ششی کلا جول نے کہا کہ یہ رپورٹ ستمبر 2020 میں دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کی گئی تھی۔ منیپدی نے 26 مارچ 2012 کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈی وی سدانند گوڑا کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔